سوشیل میڈیاقومی
ٹرینڈنگ

ٹرین میں خواتین کو گھورنے پر جھگڑا، شخص نے خاتون کی پٹائی کردی۔ ویڈیو وائرل

وائرل ہونے والی ویڈیو کے مطابق ٹرین کی اوپری برتھ (Upper Berth) پر لیٹا ہوا ایک شخص مبینہ طور پر سامنے بیٹھی لڑکیوں کو مسلسل گھور رہا تھا۔ تقریباً ڈھائی گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ہراسانی سے تنگ آکر جب لڑکیوں نے موبائل کیمرہ آن کر کے اس سے سوال کیا تو معاملہ بگڑ گیا۔

نئی دہلی: سوشل میڈیا پر ایک دل دہلا دینے والی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک نوجوان کو چلتی ٹرین میں ایک خاتون کو تھپڑ مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب خواتین کے ایک گروپ نے مذکورہ شخص پر مسلسل گھورنے کا الزام لگاتے ہوئے اسے ٹوکا۔

متعلقہ خبریں
"Excuse me” کہنا پڑا مہنگ ،ماں اور بچہ تشدد کا شکار

اس واقعہ نے انٹرنیٹ پر غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے اور عوامی مقامات پر خواتین کے تحفظ کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

وائرل ہونے والی ویڈیو کے مطابق ٹرین کی اوپری برتھ (Upper Berth) پر لیٹا ہوا ایک شخص مبینہ طور پر سامنے بیٹھی لڑکیوں کو مسلسل گھور رہا تھا۔ تقریباً ڈھائی گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ہراسانی سے تنگ آکر جب لڑکیوں نے موبائل کیمرہ آن کر کے اس سے سوال کیا تو معاملہ بگڑ گیا۔

ویڈیو میں لڑکی کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ:”

آپ ڈھائی گھنٹے سے ہمیں کیوں گھور رہے ہیں؟”

اس سوال پر ملزم مشتعل ہو گیا اور سیٹ سے نیچے اترتے ہی کیمرہ پکڑے ہوئے خاتون کے منہ پر زور دار تھپڑ دے مارا۔

صارفین ویڈیو وائرل ہوتے ہی وزیر ریلوے اشونی ویشنو کو ٹیگ کرتے ہوئے ملزم کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین نے اس بات پر بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا کہ ٹرین میں موجود دیگر مسافر خاموشی سے تماشہ دیکھتے رہے اور کسی نے بھی لڑکی کے دفاع میں مداخلت نہیں کی۔

صارفین کا کہنا ہے کہ جب تک ایسے افراد کو سخت سزا نہیں ملے گی، خواتین عوامی ٹرانسپورٹ میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی رہیں گی۔

اس واقعے نے ایک بار پھر ریلوے میں خواتین کے تحفظ کے انتظامات پر بحث چھیڑ دی ہے۔ ریلوے حکام کی جانب سے مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا ہراسانی کی صورت میں:

فوری طور پر 139 پر کال کریں۔

Rail Madad ایپ یا پورٹل پر شکایت درج کریں۔

ریلوے پروٹیکشن فورس (RPF) سے رابطہ کریں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ویڈیو کی بنیاد پر ملزم کی شناخت کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔