حیدرآباد میں مسلم شخص کا پیٹ پیٹ کر قتل، پولیس کے کردار پر بھی اٹھے سوالات
عینی شاہدین کے مطابق، واقعے کے دوران بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے اور محمد عبدالعزیز پر حملہ کر دیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں بھی ہجوم کو ایک شخص پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم ان ویڈیوز کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
حیدرآباد: حیدرآباد میں ہجوم کے ہاتھوں تشدد (Mob Lynching) کا ایک اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے شہر میں قانون و امان اور ہجوم کے بڑھتے ہوئے رجحان پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کلثوم پور پولیس اسٹیشن کی حدود میں محمد عبدالعزیز نامی شخص پر ایک کمسن بچی کے ساتھ مبینہ طور پر نازیبا حرکت کرنے کا الزام عائد کیا گیا، جس کے بعد مشتعل مقامی افراد نے انہیں پکڑ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔
عینی شاہدین کے مطابق، واقعے کے دوران بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے اور محمد عبدالعزیز پر حملہ کر دیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں بھی ہجوم کو ایک شخص پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم ان ویڈیوز کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور شدید زخمی حالت میں محمد عبدالعزیز کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ بعد ازاں ان کی طبیعت مزید بگڑ گئی۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور مقامی حلقوں میں کئی سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض افراد کا دعویٰ ہے کہ محمد عبدالعزیز کو کلثوم پور پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا، جہاں وہ بے ہوش ہو گئے، لیکن انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔ یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ بعد میں ان کی موت کے بعد انہیں عثمانیہ جنرل اسپتال لے جایا گیا۔ تاہم ان دعوؤں کی پولیس کی جانب سے تاحال باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے، اور اس حوالے سے کوئی سرکاری وضاحت بھی سامنے نہیں آئی۔
پولیس نے اس معاملے میں مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث افراد کی شناخت کی جا رہی ہے اور شواہد کی بنیاد پر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی اگر تحقیقات میں پولیس کی جانب سے کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی ثابت ہوتی ہے تو اس پہلو کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب حیدرآباد میں ہجوم کے ہاتھوں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص پر جرم کا الزام عائد ہونا اس کے خلاف ہجوم کو فیصلہ سنانے یا سزا دینے کا اختیار نہیں دیتا۔ کسی بھی مقدمے میں کارروائی کرنا صرف پولیس اور عدالتی نظام کی ذمہ داری ہے، جبکہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا خود ایک قابلِ سزا جرم ہے۔
پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی شخص پر کسی جرم کا شبہ ہو تو فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے سے گریز کریں، تاکہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔