بھارت

سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، ووٹر لسٹ سے نام ہٹنے پر شہریت ختم نہیں ہوگی

سپریم کورٹ کے مطابق، انتخابی فہرست سے نام حذف ہونے کا مطلب صرف یہ ہے کہ متعلقہ شخص فی الحال ووٹ ڈالنے کا اہل نہیں سمجھا جا رہا، لیکن اس کی بنیاد پر اس کی شہریت منسوخ نہیں کی جا سکتی

بھارت کی سپریم کورٹ نے ایک نہایت اہم اور واضح فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ صرف ووٹر لسٹ میں نام نہ ہونے کی بنیاد پر کسی بھی شخص کی بھارتی شہریت ختم نہیں کی جا سکتی۔ عدالت عظمیٰ نے یہ ریمارکس مغربی بنگال میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دیے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت، جسٹس جے مالیا باغچی اور جسٹس وی. رام سبرامنین پر مشتمل بنچ نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کے پاس کسی بھی شخص کی شہریت کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

عدالت نے کہا کہ بہار ایس آئی آر کیس میں بھی یہ بات واضح کی جا چکی ہے کہ ووٹر لسٹ سے کسی شخص کا نام حذف ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس کی بھارتی شہریت ختم ہو گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے مطابق، انتخابی فہرست سے نام حذف ہونے کا مطلب صرف یہ ہے کہ متعلقہ شخص فی الحال ووٹ ڈالنے کا اہل نہیں سمجھا جا رہا، لیکن اس کی بنیاد پر اس کی شہریت منسوخ نہیں کی جا سکتی۔

سماعت کے دوران عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کا پورا عمل مکمل شفاف ہونا چاہیے اور اگر کسی شخص کا نام غلطی سے ووٹر لسٹ سے خارج ہو جائے تو اس کے لیے مؤثر اور آسان اپیل کا نظام موجود ہونا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری صرف انتخابی فہرستوں کی تیاری اور تصدیق تک محدود ہے، جبکہ کسی شخص کی شہریت کا فیصلہ کرنا اس کے دائرۂ اختیار میں شامل نہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ سے نام خارج کیے جانے کے بعد ہزاروں افراد کو سرکاری فلاحی اسکیموں سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (PDS)، انّاپورنا یوجنا سمیت کئی سرکاری اسکیموں کے فوائد روک دیے گئے ہیں، جبکہ بعض افراد کو ذات (کاسٹ) سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے بھی انکار کیا جا رہا ہے۔

وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے افراد کی جانب سے دائر 34 لاکھ سے زائد اپیلیں اب بھی 19 اپیلیٹ ٹریبونلز میں زیر التوا ہیں۔ اب تک صرف تقریباً 38 ہزار اپیلوں کا فیصلہ کیا گیا ہے، جن میں سے لگ بھگ 70 فیصد اپیلیں منظور کی گئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں کے نام غلطی سے حذف کیے گئے تھے۔

اس موقع پر سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی شخص کی شہریت پر واقعی کوئی شبہ پیدا ہوتا ہے تو الیکشن کمیشن خود اس کا فیصلہ نہیں کر سکتا، بلکہ اسے قانون کے مطابق معاملہ مرکزی حکومت کے سامنے بھیجنا ہوگا تاکہ متعلقہ حکام شہریت سے متعلق کارروائی کریں۔ عدالت نے مغربی بنگال میں ایس آئی آر عمل اور ووٹر لسٹ سے نام خارج کیے جانے کے بعد سرکاری فلاحی اسکیموں کی معطلی سے متعلق تمام درخواستوں کی مشترکہ سماعت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔