قومی

امریکہ میں ہندوستانی طلبہ کے لیے نئی ویزا پابندیوں کی تیاری

مجوزہ پالیسی کے مطابق ایف-1 (F-1) ویزا رکھنے والے طلبہ کو عام طور پر امریکہ میں زیادہ سے زیادہ چار سال تک رہنے کی اجازت ہوگی۔ اگر کسی طالب علم کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے اس سے زیادہ وقت درکار ہو تو اسے اپنی مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے ڈی ایچ ایس سے قیام میں توسیع کی منظوری حاصل کرنا ہوگی۔

واشنگٹن: امریکہ میں زیرِ تعلیم تین لاکھ سے زائد بھارتی طلبہ سمیت لاکھوں بین الاقوامی طلبہ کو نئی امیگریشن پالیسی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی محکمہ برائے داخلی سلامتی (DHS) نے ایک نئی تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت طویل عرصے سے رائج "ڈیوریشن آف اسٹیٹس” نظام ختم کرکے طلبہ کے قیام کے لیے ایک مقررہ مدت طے کی جائے گی۔


مجوزہ پالیسی کے مطابق ایف-1 (F-1) ویزا رکھنے والے طلبہ کو عام طور پر امریکہ میں زیادہ سے زیادہ چار سال تک رہنے کی اجازت ہوگی۔ اگر کسی طالب علم کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے اس سے زیادہ وقت درکار ہو تو اسے اپنی مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے ڈی ایچ ایس سے قیام میں توسیع کی منظوری حاصل کرنا ہوگی۔


یہی اصول جے-1 (J-1) ایکسچینج پروگرام کے شرکا اور بعض دیگر ویزا رکھنے والوں پر بھی لاگو ہوگا۔ تاہم اس تجویز کے نافذ ہونے سے قبل اسے امریکی کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔


امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد ویزا نظام کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانا اور قومی سلامتی کو مضبوط کرنا ہے۔ دوسری جانب یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس پالیسی سے ایسے ہزاروں بین الاقوامی طلبہ مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں، جن کے تعلیمی پروگرام چار سال سے زیادہ مدت پر مشتمل ہوتے ہیں۔


اوپن ڈورز 2024 کی رپورٹ کے مطابق تعلیمی سال 2023-24 کے دوران امریکہ میں 3 لاکھ 31 ہزار سے زائد بھارتی طلبہ زیرِ تعلیم تھے، جو وہاں موجود بین الاقوامی طلبہ کا تقریباً 30 فیصد بنتے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد ایسے طلبہ کی ہے جو پی ایچ ڈی، تحقیقی ماسٹرز، میڈیکل ٹریننگ، انجینئرنگ ریسرچ اور دیگر طویل مدتی کورسز کر رہے ہیں۔


نئی تجویز کے تحت اگر کسی طالب علم کی قانونی مدتِ قیام ختم ہو جائے اور اسے بروقت توسیع نہ مل سکے تو وہ غیر قانونی قیام کی زد میں آ سکتا ہے، چاہے تاخیر سرکاری کارروائی یا دستاویزات کی جانچ کے باعث ہی کیوں نہ ہوئی ہو۔


دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ گرین کارڈ کے درخواست گزاروں سے ایک لاکھ امریکی ڈالر (تقریباً 96 لاکھ بھارتی روپے) بطور ضمانتی رقم جمع کرانے کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے۔


اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو درخواست گزاروں کو گرین کارڈ کی منظوری تک یہ رقم جمع رکھنی ہوگی، جبکہ منظوری کے بعد رقم واپس کر دی جائے گی۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام کا سب سے زیادہ اثر بھارتی شہریوں پر پڑ سکتا ہے، کیونکہ اس وقت دس لاکھ سے زائد بھارتی گرین کارڈ کے منتظر ہیں، جبکہ امریکہ ہر سال بھارت کے حصے میں صرف تقریباً 9 ہزار 800 گرین کارڈ جاری کرتا ہے۔