پینے کا پانی بہانا اب مہنگا پڑسکتا ہے، ایک شخص کو 5 ہزارروپئے کا جرمانہ (ویڈیو وائرل)
غیر ضروری مقاصد، جیسے گاڑیاں، سڑکیں یا عمارتوں کے احاطے دھونے کے لیے استعمال کرے گا، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
حیدرآباد: حیدرآباد میں حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ (HMWSSB) نے پینے کے پانی کے ضیاع کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
واٹر بورڈ نے واضح کیا ہے کہ جو بھی شخص پینے کے صاف پانی کو غیر ضروری مقاصد، جیسے گاڑیاں، سڑکیں یا عمارتوں کے احاطے دھونے کے لیے استعمال کرے گا، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
واٹر بورڈ کے حکام نے جوبلی ہلز روڈ نمبر 33 پر واقع ایک عمارت میں معائنہ کے دوران دیکھا کہ پینے کے پانی سے عمارت کا احاطہ دھویا جا رہا تھا، جسے پانی کا ضیاع قرار دیتے ہوئے فوری کارروائی کی گئی۔
او اینڈ ایم ڈویژن–6 کے افسران نے موقع پر پہنچ کر متعلقہ صارف کو 5 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کرتے ہوئے باضابطہ نوٹس جاری کیا اور ہدایت دی کہ نوٹس موصول ہونے کے سات دن کے اندر جرمانے کی رقم ادا کی جائے۔
حکام نے واضح کیا کہ واٹر بورڈ ایکٹ 1989 کی دفعہ 38 اور 39 کے تحت پینے کے پانی کا استعمال انتہائی احتیاط اور ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ واٹر بورڈ کے افسران کو پانی کے غلط استعمال کی جانچ کے لیے کسی بھی مقام کا معائنہ کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔
واٹر بورڈ نے سخت انتباہ دیا کہ اگر متعلقہ صارف دوبارہ پینے کے پانی کا ضیاع کرتے ہوئے پایا گیا تو واٹر بورڈ ایکٹ کی دفعہ 42 کے تحت اس کے پینے کے پانی اور سیوریج کے کنکشن منقطع کر دیے جائیں گے، اس کے علاوہ مزید قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
واٹر بورڈ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ موجودہ موسم اور پانی کے محدود ذخائر کو مدنظر رکھتے ہوئے پینے کے پانی کا ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں اور اسے گاڑیاں دھونے، سڑکوں پر چھڑکاؤ یا عمارتوں کی صفائی جیسے غیر ضروری کاموں میں استعمال کرنے سے مکمل طور پر گریز کریں، تاکہ شہر میں ہر شہری کو پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔