تلنگانہ

ناگرکرنول تمماجی پیٹ میں رشوت کیس، ایس آئی کی گرفتاری پر عوام کا جشن

5 مارچ کو شکایت کنندہ سے 30 ہزار روپے مانگے اور بعد میں 12 مارچ کو شکایت کنندہ کے چھوٹے بھائی کے خلاف درج مقدمے میں ضبط شدہ گاڑیوں کو چھڑانے کے لیے 20 ہزار روپے بطور جزوی رشوت وصول کیے۔

حیدرآباد :  تلنگانہ انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے پیر کو ناگر کُرنول ضلع کے تھِمّاجی پیٹ پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر چلملا ہری پرساد ریڈی کے خلاف رشوت مانگنے اور لینے کے الزام میں مقدمہ درج کیا۔

متعلقہ خبریں
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر
نیشنل اوورسیز اسکالرشپ: گاؤں اور چھوٹے قصبوں کے طلبہ کے عالمی تعلیمی خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا ذریعہ
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات

اے سی بی حکام کے مطابق ملزم افسر نے پہلے 5 مارچ کو شکایت کنندہ سے 30 ہزار روپے مانگے اور بعد میں 12 مارچ کو شکایت کنندہ کے چھوٹے بھائی کے خلاف درج مقدمے میں ضبط شدہ گاڑیوں کو چھڑانے کے لیے 20 ہزار روپے بطور جزوی رشوت وصول کیے۔

محبُوب نگر رینج میں اے سی بی نے بدعنوانی انسداد قانون کی دفعہ 7(اے) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ اے سی بی نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ افسر نے بے ایمانی سے کام کیا اور ذاتی فائدے کے لیے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا۔

ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اسے حیدرآباد کے نامپلی میں ایس پی ای اور اے سی بی معاملات کے پہلے اضافی خصوصی جج کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ایس آئی کی گرفتاری کے بعد مقامی افراد میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں نے پٹاخے پھوڑے اور نعرے بازی کی۔ عوام نے الزام لگایا کہ مذکورہ افسر کافی عرصے سے ہراسانی اور غیر قانونی وصولیوں میں ملوث تھا۔