اویسی نے مغربی بنگال میں فلاحی اسکیموں کو ووٹر فہرست سے جوڑنے پر سوال اٹھائے
اویسی نے کہا، "سرکاری فلاحی منصوبے ووٹروں کے لیے کوئی انعام نہیں بلکہ تمام مستحق شہریوں کا حق ہیں۔" ان کے مطابق فلاحی فوائد کو ووٹر فہرست سے جوڑنے کا اقدام سماجی بہبود کے پروگراموں کے بنیادی مقصد کو کمزور کرتا ہے
حیدرآباد : آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی نے ہفتہ کے روز مغربی بنگال حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان خبروں پر سوالات اٹھائے جن میں کہا گیا ہے کہ ووٹر فہرست کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) مہم کے بعد عوامی تقسیم نظام (پی ڈی ایس) کے تحت راشن اور دیگر فلاحی فوائد کو ووٹر فہرست سے جوڑا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں اویسی نے الزام لگایا کہ ووٹر فہرست میں جن افراد کو غیر حاضر یا منتقل شدہ قرار دیا گیا ہے، نیز وہ لوگ جنہیں گزشتہ انتخابات کے دوران ووٹر سلپ نہیں ملی تھی، انہیں حقیقی اور اہل شہری ہونے کے باوجود فلاحی اسکیموں کے فوائد سے محروم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے فلاحی فوائد کے حصول کے لیے ووٹر فہرست کو بنیاد بنانے کی منطق پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب تصدیق کے لیے آدھار پر مبنی نظام پہلے سے موجود ہے تو پھر اس اضافی شرط کی کیا ضرورت ہے۔
اویسی نے کہا، "سرکاری فلاحی منصوبے ووٹروں کے لیے کوئی انعام نہیں بلکہ تمام مستحق شہریوں کا حق ہیں۔” ان کے مطابق فلاحی فوائد کو ووٹر فہرست سے جوڑنے کا اقدام سماجی بہبود کے پروگراموں کے بنیادی مقصد کو کمزور کرتا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس پالیسی کا سب سے زیادہ اثر خواتین، درج فہرست ذاتوں اور اقلیتی طبقات سمیت معاشرے کے محروم طبقوں پر پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تصدیق کے نام پر مستفیدین کی تعداد کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اویسی نے مزید کہا کہ فلاحی اسکیمیں عوام کے ٹیکس کے پیسے سے چلتی ہیں اور انہیں کسی صوابدیدی رعایت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ ان اسکیموں تک رسائی تمام اہل شہریوں کا بنیادی حق ہے۔
انہوں نے فلاحی فوائد کی تقسیم کو سیاسی رنگ دینے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایسے انتظامی فیصلے معاشرے کے غریب ترین طبقات کی زندگی کو مزید دشوار بنا رہے ہیں۔