تعلیم و روزگارتلنگانہ
ٹرینڈنگ

زندگی کا دردناک سفر: عصمت ریزی کی شکار کمسن لڑکیوں نے ایس ایس سی امتحان کامیاب کیا

شدید صدمہ کے باوجود ہمت‘ عزم اور غیرمعمولی مظاہرہ کرتے ہوئے تلنگانہ میں عصمت ریزی کے شکار 2کمسن متاثرین نے دسویں جماعت کا امتحان کامیاب کیا ہے۔

حیدرآباد: شدید صدمہ کے باوجود ہمت‘ عزم اور غیرمعمولی مظاہرہ کرتے ہوئے تلنگانہ میں عصمت ریزی کے شکار 2کمسن متاثرین نے دسویں جماعت کا امتحان کامیاب کیا ہے۔

متعلقہ خبریں
ایس ایس سی /انٹرٹاس کی داخلوں کیلئے خصوصی مہم
بلقیس بانو کیس، 9 اکتوبر کو سپریم کورٹ میں بحث
راجندرنگر میں اپنی ہی کمسن بیٹی کی عصمت ریزی، ملزم کو عمر قید کی سزا
نابالغ چچازاد بہن کیساتھ جنسی زیادتی کے ملزم کو 20 سال قید کی سزا
نابالغ لڑکی کی عصمت ریزی کا واقعہ

ایس ایس سی امتحانات کے نتائج چند دن قبل جاری کئے گئے۔ ایک نوجوان لڑکی جس کی عمر15 سال بتائی گئی‘ کی زندگی کا سفر صدمہ انگیز رہا کیونکہ اس لڑکی کو اس کے والد نے جنسی ہوس کا شکار بنایاتھا۔ یہ شرمناک واقعہ 2023 ء میں پیش آیا۔

دردشکم کی شکایت پر دادی‘ پوتری کو ہاسپٹل لے گئی تھیں جہاں مختلف ٹسٹوں کے بعد پتہ چلاکہ لڑکی حاملہ ہے۔ معاملات کو مزید خراب ہونے سے بچانے کیلئے اس لڑکی کے حمل کو ساقط نہیں کیاگیا چونکہ یہ حمل اڈوانسڈ حالت میں پہنچ گیاتھا۔ اس نے 9ماہ میں بچے کو جنم دیا۔

ایک پولیس آفیسر ایم مہندرریڈی جو ان دو معاملات سے نمٹ رہے ہیں‘ نے پی ٹی آئی کو یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ نومولود کو ایک یتیم خانہ منتقل کردیاگیا اور لڑکی نے تعلیم کے حصول کو جاری رکھا۔ صدمہ اور مشکلات کے باوجود متاثرہ لڑکی نے 5.6 گریڈ کے ساتھ ایس ایس سی امتحان کامیاب کیا ہے۔

اس لڑکی کے والد کو عمرقید کی سزا سنائی گئی ہے اورعدالت نے لڑکی کو 15لاکھ روپئے معاوضہ ادا کیا ہے۔

دوسری لڑکی بھی عصمت ریزی کی شکار رہی ہے۔16 سالہ لڑکی کو اس کے چچا نے جنسی زیادتی کا شکار بنایا۔ اس لڑکی نے بھی 9.3 جی پی اے کے ساتھ ایس ایس امتحان کامیاب کیا ہے۔

بھتیجی کے ساتھ چچا کے گھناؤنے جرم کے بعد خاندان کے افراد بھی لڑکی سے دور ہوگئے مگر ایس ایس سی میں شاندار کامیابی حاصل کرنے کے بعد رشتہ دار لڑکی کو مبارکباد دینے آگے آئے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے دونوں لڑکیاں پولیس آفیسرس بننے کی خواہاں ہیں کیونکہ میر پیٹ پولیس اسٹیشن نے ان دونوں کو انصاف دلایا ہے اس لئے ان کے دل سے پولیس کا خوف ختم ہوگیا۔

مہیندرریڈی جو قبل ازیں میرپیٹ پی ایس کے ایس ایچ او کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے‘ نے کہا کہ خاتون کانسٹبلس اور دیگر پولیس عہدیداروں نے اس کیس کو کامیابی کے ساتھ حل کیا۔

متاثرین کی مدد کرنے کے ساتھ پولیس عہدیداروں نے ان دو متاثرہ لڑکیوں میں عزم وحوصلہ پیدا کرنے اور ان کی کونسلنگ کی اور یہ عہدیدار ان لڑکیوں کو حصول تعلیم کی بھی ترغیب دیتے رہے۔