شمالی بھارت

مولانا بدرالدین اجمل کی پارٹی، انڈیا اتحاد کی حامی

آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) اپوزیشن انڈیا بلاک کا حصہ نہ ہونے کے باوجود اس کے صدر مولانا بدرالدین اجمل قاسمی نے جمعہ کے دن یہ کہتے ہوئے اپوزیشن اتحاد کی تائید کردی کہ اس سلسلہ میں رسمی مکتوب عنقریب حوالہ کیا جائے گا۔

گوہاٹی: آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) اپوزیشن انڈیا بلاک کا حصہ نہ ہونے کے باوجود اس کے صدر مولانا بدرالدین اجمل قاسمی نے جمعہ کے دن یہ کہتے ہوئے اپوزیشن اتحاد کی تائید کردی کہ اس سلسلہ میں رسمی مکتوب عنقریب حوالہ کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں
بدرالدین اجمل پر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کا الزام
ہیمنتا بسوا شرما اور بدرالدین اجمل کے مابین خفیہ سمجھوتہ
راہول گاندھی میں کوئی صلاحیت نہیں۔ جنتادل یوکا پلٹ وار
تلنگانہ میں کانگریس کو 10 نشستیں ملیں گی، چیف منسٹر پرامید
ممتا یکم جون کو ہونے والی انڈیا الائنس میٹنگ میں شامل نہیں ہوں گی

اے آئی یو ڈی ایف کو انڈیا بلاک کا حصہ بننے میں ہمیشہ دلچسپی رہی لیکن کانگریس نے اس کی شمولیت کی پرزور مخالفت کی۔

آسام میں کانگریس نے انڈیا بلاک بننے سے بہت پہلے 11 دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کرلیا لیکن اے آئی یو ڈی ایف کو اس میں جگہ نہیں ملی۔ آسام پردیش کانگریس کے صدر بھوپن بھورا نے جو مولانا اجمل کے سخت ناقد ہیں‘ بارہا کہا کہ کانگریس مستقبل میں اے آئی یو ڈی ایف کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی۔

حال میں راہول گاندھی نے بھی اے آئی یو ڈی ایف پر تبصرہ کیا تھا اور زور دے کر کہا تھا کہ مولانا اجمل کی پارٹی کو انڈیا بلاک میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ اس مرحلہ پر مولانا اجمل نے بی جے پی سے ٹکر لینے اپوزیشن اتحاد کو اپنی پارٹی کی تائید کا اعلان کردیا۔

اسی کے ساتھ انہوں نے کانگریس پر تنقید کی۔ انہوں نے گوہاٹی میں اخباری نمائندوں سے کہا کہ آسام میں کانگریس‘ اے آئی یو ڈی ایف کی تائید کے بغیر نشستیں نہیں جیت سکتی۔ دیگر 11 سیاسی جماعتوں کے ساتھ اس کا اتحاد لوک سبھا الیکشن تک ہی جاری رہے گا۔

اے آئی یو ڈی ایف قائد نے کانگریس پر یہ بھی الزام عائد کیا کہ اس نے مسلمانوں کے لئے زیادہ کچھ نہیں کیا ہے۔ مولانا اجمل نے کہا کہ کانگریس نے اپنی پچھلی حکومت میں مسلم فرقہ کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔

ترون گوگوئی جس وقت چیف منسٹر آسام تھے‘ ریاست میں حراستی مراکز کھولے گئے۔ مولانا نے دعویٰ کیا کہ مسلمانوں نے کانگریس کی سیاست کو سمجھ لیا ہے اور وہ اسے آئندہ انتخابات میں ووٹ نہیں ڈالیں گے۔

a3w
a3w