مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی طاقت میں اضافہ، ایف-16 اور ایف-35 طیارے تعینات
اس کے علاوہ فضائی ایندھن فراہم کرنے والے ٹینکر طیارے بھی مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کیے جا رہے ہیں۔
واشنگٹن : ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شدت اختیار کرنے پر امریکہ مزید ایف-16 اور ایف-35 جنگی طیارے مشرقِ وسطیٰ بھیج رہا ہے۔
ایئر اینڈ اسپیس فورسز میگزین کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ امریکہ کی جنگ میں شدت آنے کے بعد پینٹاگون خطے میں مزید جنگی طیارے تیزی سے تعینات کر رہا ہے، اس سلسلے میں امریکی فضائیہ کے مزید ایف-16 فائٹنگ فالکن اور ایف-35 لائٹننگ II جنگی طیارے مشرقِ وسطیٰ بھیجے جا رہے ہیں۔
بھیجے جانے والے طیاروں میں جرمنی کے سپانگڈاہلم ایئر بیس پر تعینات 480 ویں فائٹر اسکواڈرن کے ایف سولہ طیارے اور برطانیہ کے آر اے ایف لیکن ہیتھ سے 48 ویں فائٹر ونگ کے اسٹیلتھ ایف پینتیس طیارے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فضائی ایندھن فراہم کرنے والے ٹینکر طیارے بھی مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کیے جا رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع پر دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف فضائی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ اس کے بعد سے امریکی افواج ایران کے اندر متعدد پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے سمیت مختلف اہداف کو نشانہ بنا چکی ہیں۔
سی این این نے پیر کے روز رپورٹ کیا کہ گزشتہ چند روز کے دوران امریکی فضائی ایندھن بردار (ریفیولنگ) طیاروں کی درجنوں تعداد اسرائیل پہنچ چکی ہے، جب کہ مزید طیارے بھی مسلسل آ رہے ہیں۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا ایران کے خلاف فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے، اور ان حملوں کا زیادہ تر مرکز جنوبی ایران ہے۔ تہران نے جواباً کئی علاقائی ممالک میں ان تنصیبات اور اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جنھیں وہ امریکی فوج کے زیرِ استعمال قرار دیتا ہے۔
ایئر اینڈ اسپیس فورسز میگزین کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف آپریشن ایپک فیوری کے لیے جنوری اور فروری سے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات اپنی فضائی قوت کا کچھ حصہ واپس بلانا شروع کر دیا تھا۔ ایران پر حملوں کے لیے برطانیہ کے آر اے ایف فیئر فورڈ اڈے پر تعینات بی-52 ایچ اسٹریٹوفورٹریس بمبار طیاروں میں سے 6 طیارے گزشتہ ہفتوں کے دوران واپس امریکا لوٹ گئے، جب کہ کچھ بی-1 بی لینسر بمبار طیارے اب بھی وہاں موجود ہیں۔
اسی طرح گزشتہ چند ہفتوں میں ایف-22 ریپٹر، ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل جنگی طیارے اور اے-10 تھنڈربولٹ II حملہ آور طیارے بھی مشرق وسطیٰ میں اپنی تعیناتی مکمل کرنے کے بعد اپنے مستقل اڈوں پر واپس چلے گئے، اگرچہ امریکی فضائیہ اور بحریہ کے متعدد جنگی طیارے اب بھی خطے میں موجود ہیں۔
480 ویں فائٹر اسکواڈرن کے ایف-16 طیارے حال ہی میں جرمنی واپس پہنچے تھے، مگر صرف چند ہفتوں بعد ہی اس یونٹ کے وائلڈ ویزلز، جو دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو ناکارہ بنانے میں مہارت رکھتے ہیں، دوبارہ مشرقِ وسطیٰ روانہ کیے جا رہے ہیں۔