17 سالہ طالبہ کا المناک انجام، کم عمری میں شادی کے خوف نے جان لے لی
حقیقت یہ تھی کہ والدین نے ابھی صرف تذکرہ کیا تھا، نہ تو کوئی رشتہ طے ہوا تھا اور نہ ہی لڑکی پر کسی قسم کا دباؤ ڈالا گیا تھا۔ لیکن روپا کے ذہن پر یہ خوف سوار ہو گیا کہ شاید اس کی پڑھائی چھڑا کر زبردستی شادی کردی جائے گی۔
امراوتی: آندھرا پردیش سے ایک انتہائی افسوسناک خبر سامنے آئی ہے، جہاں شادی کے خوف سے ایک 17 سالہ طالبہ نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
مرنے والی طالبہ کا نام روپا کیرتنا ہے، جس نے حال ہی میں انٹرمیڈیٹ (سال اول) کے امتحان دے چکی ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ گھر میں والدین آپس میں بات چیت کر رہے تھے کہ اگر کوئی اچھا رشتہ ملا تو لڑکی کی شادی کر دیں گے۔
یہ بات سن کر طالبہ نے والدین سے کہا کہ وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی بلکہ مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے۔
حقیقت یہ تھی کہ والدین نے ابھی صرف تذکرہ کیا تھا، نہ تو کوئی رشتہ طے ہوا تھا اور نہ ہی لڑکی پر کسی قسم کا دباؤ ڈالا گیا تھا۔ لیکن روپا کے ذہن پر یہ خوف سوار ہو گیا کہ شاید اس کی پڑھائی چھڑا کر زبردستی شادی کردی جائے گی۔
اسی خوف کے پیش نظر طالبہ نے چہارشنبہ کے روز زہر پی لیا۔ اسے فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا لیکن علاج کارگر ثابت نہ ہوا اور وہ زندگی کی بازی ہار گئی۔
والدین کی محض ایک گفتگو نے ایک ہونہار طالبہ کی جان لے لی۔ فی الحال پولیس مصروف تحقیقات ہے۔