بہن نے اپنے ہی بھائی سے شادی کر لی
شادی کے فوراً بعد یہ جوڑا چکمگلور کے ایس پی (SP) دفتر اور خواتین کے پولیس اسٹیشن پہنچا۔ انہوں نے پولیس کو اپنی شادی کی اطلاع دی اور تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی۔
بنگلور/ چکمگلور: رشتوں کا تقدس اور بھائی بہن کا پیار معاشرے میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ عام طور پر ایک بھائی کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی بہن کی عزت کی حفاظت کرے اور اس کی شادی کی ذمہ داریاں نبھائے، لیکن ریاست کرناٹک کے ضلع چکمگلور سے ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ یہاں ایک لڑکی نے تمام سماجی بندھنوں کو توڑ کر اپنے ہی رشتہ دار بھائی سے شادی کر لی۔
خبروں کے مطابق، بنگلور دیہی ضلع کے دیونہلی تعلقہ سے تعلق رکھنے والی 29 سالہ ششی کلا اور ہوسکوٹہ تعلقہ کے رہنے والے 24 سالہ پروین کے درمیان طویل عرصے سے محبت کا رشتہ قائم تھا۔
رشتہ کیا تھا؟ ششی کلا اور پروین آپس میں قریبی رشتہ دار ہیں۔ پروین، ششی کلا کی خالہ کا بیٹا ہے، جس کی وجہ سے وہ رشتے میں بہن بھائی لگتے ہیں۔
جب خاندان والوں کو ان کی بہت کا علم ہوا تو انہوں نے اس رشتے کی سخت مخالفت کی، کیونکہ سماجی اور خاندانی روایات کے مطابق اس طرح کی شادی کو قبول نہیں کیا جاتا۔
گھر والوں نے ششی کلا کی مرضی کے خلاف اس کی منگنی کسی دوسرے نوجوان سے کر دی تھی اور 29 مئی کو شادی کی تاریخ بھی طے ہو چکی تھی۔ لیکن شادی سے چند روز قبل ہی ششی کلا گھر سے بھاگ نکلی اور پروین کے ساتھ جا کر شادی رچا لی۔
شادی کے فوراً بعد یہ جوڑا چکمگلور کے ایس پی (SP) دفتر اور خواتین کے پولیس اسٹیشن پہنچا۔ انہوں نے پولیس کو اپنی شادی کی اطلاع دی اور تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی۔
"ہم نے ایک دوسرے کی رضامندی سے شادی کی ہے، اب ہمیں اپنی زندگی سکون سے گزارنے دی جائے اور ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے۔”
فی الحال یہ واقعہ پورے علاقے میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے، جہاں ایک طرف لوگ اسے رشتوں کے تقدس کے خلاف قرار دے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف نوجوان جوڑا اپنے فیصلے پر قائم ہے۔
- مذہبی اور روایتی پہلو (شاسترا):
ہندو دھرم میں شادی کے لیے "سپنڈا” (Sapinda) کے اصول پر عمل کیا جاتا ہے۔ اس اصول کے تحت خون کے قریبی رشتوں میں شادی ممنوع ہے۔
ماں کی طرف سے پانچ نسلوں تک اور باپ کی طرف سے سات نسلوں تک شادی کی ممانعت ہے۔
چونکہ خالہ کی بیٹی ماں کی قریبی رشتہ دار (بہن کی بیٹی) ہے، اس لیے اسے مذہبی طور پر "بہن” تصور کیا جاتا ہے اور ایسی شادی کو "گناہ” یا ناجائز سمجھا جاتا ہے۔
- قانونی پہلو (Hindu Marriage Act 1955):
بھارت کے ہندو میرج ایکٹ کے تحت خالہ کی بیٹی سے شادی "ممنوعہ رشتوں کی ڈگری” (Prohibited Degrees of Relationship) میں آتی ہے۔
قانون کی رو سے ایسی شادی باطل (Void) ہے، یعنی اسے قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔
- استثنا (Exceptions):
اس میں صرف ایک ہی صورت میں رعایت ملتی ہے:
اگر کسی خاص علاقے یا برادری کی اپنی قدیم روایت (Custom) ایسی ہو جہاں یہ شادیاں جائز مانی جاتی ہوں (جیسے جنوبی ہندوستان کے بعض حصوں میں کزن سے شادی کا رواج ہے)، تو وہاں اسے قانونی تحفظ مل سکتا ہے۔ لیکن شمالی بھارت میں یہ مکمل طور پر ممنوع ہے۔