دہلی

بھارت جوڑو یاترا‘ ملک کیلئے ویژن فراہم نہیں کرتی: ممتاز ماہر تعلیم

ممتاز ماہرتعلیم اور پولیٹیکل سائنٹسٹ زویا حسن کا کہنا ہے کہ کانگریس کا بحران صرف غیرموثر قیادت یا تنظیمی کمزوری کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس سے بھی گہرا ہے۔

نئی دہلی: ممتاز ماہرتعلیم اور پولیٹیکل سائنٹسٹ زویا حسن کا کہنا ہے کہ کانگریس کا بحران صرف غیرموثر قیادت یا تنظیمی کمزوری کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس سے بھی گہرا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاست‘ معیشت اور سماج میں عملی تبدیلیاں بحران کو گہراکررہی ہیں۔ اپنی نئی کتاب آئیڈیالوجی اینڈآرگنائزیشن ان انڈین پالیٹکس: پولرائزیشن اینڈ گروئینگ کرائسس آف دی کانگریس پارٹی پر اظہار خیال میں جمعہ کے دن زویاحسن نے کہا کہ اہم مسائل پر نظریاتی ابہام بڑا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جاریہ بھارت جوڑو یاترا2024ء کے عام انتخابات سے قبل سیاسی فائدہ اٹھانے اور ووٹرس کو متحرک کرنے کا اچھاراستہ ہے۔ اس سے کانگریس کا احیاء ہوگا اور فرقہ پرست سیاست کو پیچھے دھکیل دیاجاسکے گا۔

زویاحسن نے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا‘ حکومت اور حکمرانی کے ریکارڈ پر تنقید توکرتی ہے لیکن ملک کے لئے ویژن فراہم نہیں کرتی۔ کانگریس کے زوال کو اس کی نظریاتی حریف بی جے پی کے شاندار عروج کے ساتھ مل کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

بی جے پی نے ملک کی اکثریت کو یہ سوچ دی کہ ہندو ملک میں اسے اس کے مستحقہ مقام سے محروم کیاجارہاہے۔ ممتازماہرتعلیم نے کہا کہ کانگریس کا تنظیمی بحران اعلیٰ قائدین کے ہاتھوں میں اختیارات کی مرکوزیت سے بڑھتا رہا جنہیں گرام پنچایت سطح کی تائید حاصل نہیں۔

اپوزیشن کا واضح فلسفہ بنائے بغیر کانگریس شناخت کی سیاست کا توڑکرنے زمینی تائید حاصل نہیں کرسکتی۔پارٹی میں قیادت کے بحران پر زویاحسن نے کہا کہ غیرگاندھی کا پارٹی صدر بننا اہم تبدیلی ضرور ہے لیکن یہ پارٹی کے مسائل حل نہیں کرسکتی۔ راہول گاندھی کے استعفیٰ کے بعد کانگریس میں کل وقتی صدر کا عہدہ تقریباً 3 سال خالی رہا۔

a3w
a3w