تلنگانہ

ڈی ناگیندر کا ہائی کورٹ میں مؤقف: نہ بی آر ایس چھوڑی، نہ کانگریس میں شامل ہوا

ڈی ناگیندر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل نے کہیں بھی کانگریس پارٹی میں شامل ہونے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا اور وہ اب بھی بی آر ایس کے رکن ہیں۔ وکیل نے یہ بھی دلیل دی کہ کسی قانون میں یہ نہیں کہا گیا کہ ایک موجودہ رکن اسمبلی دوسری سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر رکن پارلیمنٹ کا انتخاب نہیں لڑ سکتا۔

حیدرآباد: بی آر ایس کے رکن اسمبلی ڈی ناگیندر نے تلنگانہ ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ وہ کسی دوسری سیاسی جماعت میں شامل نہیں ہوئے ہیں اور نہ ہی انہوں نے بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) سے استعفیٰ دیا ہے۔

یہ وضاحت ان ارکان اسمبلی کے خلاف دائر نااہلی کی درخواست سے متعلق سماعت کے دوران پیش کی گئی، جس میں اسپیکر کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

ڈی ناگیندر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل نے کہیں بھی کانگریس پارٹی میں شامل ہونے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا اور وہ اب بھی بی آر ایس کے رکن ہیں۔ وکیل نے یہ بھی دلیل دی کہ کسی قانون میں یہ نہیں کہا گیا کہ ایک موجودہ رکن اسمبلی دوسری سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر رکن پارلیمنٹ کا انتخاب نہیں لڑ سکتا۔

وکیل نے اسپیکر کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ قانونی دفعات کے مطابق دیا گیا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کو اسپیکر کے فیصلے میں صرف اسی صورت میں مداخلت کرنی چاہیے جب اس میں کوئی واضح قانونی خامی ہو، جبکہ موجودہ معاملے میں عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔

دلائل سننے کے بعد تلنگانہ ہائی کورٹ نے معاملے کی مزید سماعت 20 اگست تک ملتوی کر دی۔