نلگنڈہ میں اسکول پرنسپل کے بہیمانہ قتل میں دسویں جماعت کے طلبہ پر شبہ
تلنگانہ کے ضلع نلگنڈہ میں ایک خاتون اسکول پرنسپل کے بہیمانہ قتل کے معاملے میں حیران کن پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ اس قتل میں تین نوجوان ملوث ہو سکتے ہیں، جن میں سے دو دسویں جماعت کے طلبہ ہیں اور مبینہ طور پر اسی اسکول میں زیر تعلیم ہیں جہاں مقتولہ پرنسپل کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔
نلگنڈہ: تلنگانہ کے ضلع نلگنڈہ میں ایک خاتون اسکول پرنسپل کے بہیمانہ قتل کے معاملے میں حیران کن پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ اس قتل میں تین نوجوان ملوث ہو سکتے ہیں، جن میں سے دو دسویں جماعت کے طلبہ ہیں اور مبینہ طور پر اسی اسکول میں زیر تعلیم ہیں جہاں مقتولہ پرنسپل کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔
مقتولہ کی شناخت 45 سالہ روپا ریڈی کے طور پر ہوئی ہے، جو کونڈامالاپلے قصبے کی جے بی کالونی کی رہنے والی تھیں اور نگرجنا پبلک اسکول کی پرنسپل تھیں۔ یہ واردات 11 اگست کی رات اس وقت پیش آئی جب ان کے شوہر حیدرآباد گئے ہوئے تھے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق روپا ریڈی کو چاقو سے مبینہ طور پر 27 مرتبہ وار کرکے قتل کیا گیا۔ پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات کے دوران تقریباً 80 افراد سے پوچھ گچھ کی، جس کے بعد شک تین نوجوانوں پر مرکوز ہوا، جن کا تعلق کونڈامالاپلے منڈل کے دو مختلف دیہات سے بتایا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق دو مشتبہ افراد دسویں جماعت کے طالب علم ہیں اور نگرجنا پبلک اسکول میں ہی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ تحقیقات میں یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ مبینہ واردات کے بعد بھی مشتبہ طلبہ اسکول آتے رہے اور تحقیقات کی پیش رفت پر نظر رکھتے ہوئے کسی قسم کا شبہ پیدا ہونے سے بچنے کی کوشش کرتے رہے۔
پولیس نے ملزمین کی تلاش کے دوران ابراہیم پٹنم کے قریب تین افراد کو مبینہ طور پر حراست میں لیا ہے۔ تاہم، پولیس کی جانب سے ابھی تک مشتبہ افراد کے کردار اور دیگر تفصیلات کے بارے میں باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
تحقیقات کے دوران یہ شبہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ قتل کے بعد گھر سے تقریباً 4 لاکھ روپے نقد رقم لوٹی گئی۔ پولیس اب اس زاویے سے بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا قتل کا مقصد رقم لوٹنا تھا یا اس واردات کے پیچھے کوئی اور وجہ کارفرما تھی۔
پولیس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے تاکہ قتل کے اصل محرکات اور واردات کے مکمل حالات کا پتہ لگایا جا سکے۔