تلنگانہ

زمین پر قبضے کی شکایت کرنے والے بزرگ جوڑے کا مکان منہدم، احتجاجاً پانی کی ٹینکی پر چڑھ گئے

تلنگانہ کے ضلع پیداپلی میں رام گنڈم میونسپل کارپوریشن کے 22ویں ڈویژن کے تحت لکشمی پورم علاقے میں ایک بزرگ جوڑے نے مبینہ طور پر اپنے ہی مکان کو منہدم کیے جانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پانی کی ٹینکی پر چڑھ کر انصاف کا مطالبہ کیا۔

پیداپلی: تلنگانہ کے ضلع پیداپلی میں رام گنڈم میونسپل کارپوریشن کے 22ویں ڈویژن کے تحت لکشمی پورم علاقے میں ایک بزرگ جوڑے نے مبینہ طور پر اپنے ہی مکان کو منہدم کیے جانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پانی کی ٹینکی پر چڑھ کر انصاف کا مطالبہ کیا۔

متاثرہ جوڑے کی شناخت مینو لکشمی اور موگلی کے طور پر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے تقریباً 20 سال قبل اپنے آبائی وراثتی پلاٹ پر یہ مکان تعمیر کیا تھا۔

جوڑے کے مطابق، انہوں نے میونسپل کارپوریشن کے حکام سے شکایت کی تھی کہ بعض افراد نے ان کی زمین کے ایک حصے پر مبینہ طور پر قبضہ کر کے مکان تعمیر کر لیا ہے۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ مبینہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کی جائے اور غیر قانونی تعمیر کو ہٹایا جائے۔

تاہم، بزرگ جوڑے نے الزام لگایا کہ ٹاؤن پلاننگ حکام نے مبینہ قابضین کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ان کا اپنا مکان ہی منہدم کر دیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہدامی کارروائی سے قبل انہیں کوئی نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا۔

متاثرین نے حکام سے سوال کیا کہ اگر ان کے مکان پر کوئی اعتراض تھا تو 20 سال تک کارروائی کیوں نہیں کی گئی اور اچانک بغیر کسی پیشگی اطلاع یا نوٹس کے مکان کیوں منہدم کر دیا گیا۔

جوڑے کا الزام ہے کہ وہ ایک ہفتے تک مختلف حکام کے دفاتر کے چکر لگاتے رہے اور انصاف کی اپیل کرتے رہے، لیکن ان کی شکایت پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ مایوس ہو کر دونوں نے احتجاجاً پانی کی ٹینکی پر چڑھ کر کارروائی کے ذمہ دار افراد کے خلاف انصاف کا مطالبہ کیا۔

واقعہ کے بعد علاقے میں تشویش پھیل گئی، جبکہ میونسپل حکام کی جانب سے اس معاملے پر ردعمل کا انتظار ہے۔