مضامین

نصاب ِ تعلیم کو بدلنے کی تیاریاں

ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد

ملک کے تعلیمی نصاب کو اصلاحات کے نام پر بدلنے کا عمل گزشتہ دنوں شروع ہو چکا ہے۔ نئی قومی تعلیمی پالیسی کی مطابقت میں یہ سارا عمل جا ری ہے۔ این سی ای آر ٹی نے سی بی ایس ای کی نصابی کتب سے اہم عنوانات کو حذف کر دیا۔ اس کے لیے یہ تاویل دی جا رہی ہے کہ طلباءکے ذہنی بوجھ کو کم کرنے کے لئے سماجی علم کے نصاب سے شہریت، قومیت ، سیکولرازم اور سیاسی پارٹیوں جیسے موضوعات کو نکال دیا گیا۔ ہر عام ہندوستانی جانتا ہے کہ یہ موضوعات نہ صرف طلباءو طالبات کے لئے اہم ہیںبلکہ تمام ہی ہندوستانیوں کے لیے یہ موضوعات بڑی معنویت رکھتے ہیں۔ شہریت جیسے اہم موضوع کو تعلیمی نصاب سے خارج کردیا جائے تو پھرملک کی نو خیز نسل اپنے حقوق اور آزادیوں سے کیسے واقف ہو سکے گی۔ وہ ایک ذمہ دار شہری کا رول کیسے ادا کرسکیں گے۔ ان کو بحیثیت شہری کے اپنی ذ مہ داریوں کا احسا س کیسے ہوگا؟ جمہوریت میں شہری کو کتنے سیاسی حقوق حاصل ہیں، اس کی جانکاری شہریت کو پڑھے بغیر کیسے سمجھ میں آ ئے گی۔ اسی طرح قومیت بھی ایک اہم عنوان ہے۔ اس کے ذریعہ آنے والی نسلوں میں ملک سے محبت کا جذبہ پیدا کیا جا تا ہے۔ قومیت کو جانے بغیر طلباءمیں حب الوطنی کے جذبات کیسے فروغ دیے جا سکتے ہیں۔ سیکولرازم، ہمارے دستور کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ اس کا شمار دستور کے بنیادی ڈھانچہ میں ہوتا ہے، لیکن این سی ای آر ٹی نے بغیر کسی مشاورت کے سیکولرازم کے موضوع کو بھی نصاب سے خارج کر دیا۔ تعلیمی نصاب میں اس طرح من مانی انداز میں رّد و بدّل کرنے کی نوبت آخر آئی کیوں؟ موجودہ حکومت کے کارندوں کو تعلیمی نصاب میں اچانک تبدیلیاں لانے کی ضرورت کیوں محسوس ہو ئی۔ یہ دراصل ایک منصوبہ بند اقدام ہے، تاکہ مستقبل کی نسلیں اپنی آزادی کو استعمال کرتے ہوئے ملک کے جمہوری نظام میں حصہ نہ لیں سکیں۔ ملک کے تعلیمی شعبہ سے چھیڑ چھاڑ کا یہ عمل اسی وقت سے شروع ہو گیا جب پہلی مرتبہ 2014میں بی جے پی کے ہاتھوں میں اقتدار آیا۔ بی جے پی کے قائدین بر سرِ اقتدار آنے کے بعد سے مسلسل اس بات کے لیے کو شاں رہے کہ کسی بھی طرح ملک کے تعلیمی نظام کو بدل دیا جائے۔ اپنی پہلی میعاد کے ختم ہوتے ہوتے بی جے پی حکومت نے نئی تعلیمی پالیسی کو مدوّن کرنے کے ارادے سے ایک کمیٹی تشکیل دے دی۔ اس کمیٹی نے بڑی جلد بازی میں ایک نئی تعلیمی پالیسی کا مسودہ تیار کرکے حکومت کے حوالے بھی کردیا۔ ملک میں پیتیس سال کے طویل عرصہ کے بعد ایک نئی تعلیمی پالیسی کو رائج کرنے کا حکومت نے فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلہ کو نافذ کرنے سے پہلے ملک کے تمام ہی ماہرین تعلیم ، سماجی جہدکاروں اور سیاسی قائدین سے مشورے طلب کئے جا تے اور ایک مبسوط اور جامع تعلیمی پالیسی تیاری کی جا تی جس میں ملک کے تمام ہی طبقات کی نمائندگی ہو تی۔ ہر زبان اور مذہب کے ماننے والوں کے جذبات کا لحاظ رکھا جاتا۔ ان ساری باتوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے ایک مخصوص سوچ اور نظریہ کے تحت ایک ایسی تعلیمی پالیسی ملک میں نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو ہندوستانی سماج کے تانے بانے سے قطعی ہم آہنگ نہیں ہے۔ تعلیم کا مقصد طلباءکی ذہنی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتے ہوئے ان میں وہ اعلیٰ انسانی اقدار کو فروغ دینا ہو تا ہے جس کے ذریعہ ایک مہذب معاشرہ کی تشکیل ممکن ہو سکے۔ تعلیم ،انسانی فکر و عمل کے زوایہ کو بدلنے کا اہم ہتھیار ہے۔ تعلیم کے نام پر طلباءکے ذہنوں کو منتشر کرنے والے عنوانات شامل نصاب کر دیے جائیں تو اس کے بڑے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔
ملک میں جس قومی تعلیمی پالیسی کا نفاذ عمل میں آ رہا ہے اس کے تعلق سے سماج کے مختلف گوشوں میں بے چینی اور اضطراب کی کیفیت دیکھی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے وہاں کی ریاستی حکومتوں نے اس پر نظر ثانی کر نے کا مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔ جن ریاستوں میں کانگریس کی حکومت ہے وہاں اس بات کے امکانات ہیں کہ وہ مرکز کی پالیسی کو روبہ عمل لانے میں جلد بازی سے کام نہیں لیں گے، لیکن جن ریاستوں میں بی جے پی بر سر اقتدار ہے وہاں اس کو نافذکرنے کی تیاری کرلی گئی ہے۔ ریاستوں کو اس بات پر اعتراض ہے کہ تعلیم کا شعبہ ، ریاستوں کے زیر انتظام ہے۔ ریاستی حکومتیں تعلیم کے فروغ کے لیے بجٹ مقرر کر تی ہے۔ مرکز، ان سے مشاورت کیے بغیر تعلیمی پالیسی کو سارے ملک میں نا فذ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ دراصل وفاقیت کے اصول کے خلاف ہے۔ جن امور کا تعلق ریاستوں سے ہے، واقعی اس بارے میں ریاستوں سے مذاکرات کے بعد ہی اس پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن شروع ہی سے مرکزی حکومت نے ریاستوں سے اس ضمن میں کو ئی تجاویز طلب نہیں کیں اور نہ تعلیمی پالیسی کا مسودہ تیار کرتے وقت ریاستوں کو نمائندگی دی گئی۔ طرفہ تماشا یہ کہ پارلیمنٹ میں بھی نئی قومی تعلیمی پالیسی پر کوئی مباحث نہیں ہوئے۔ایک ایسی پالیسی جس کا تعلق آنے والی نسلوں سے ہو اس پر تو پورے ملک میں مباحث ہونے چاہیے تھے۔ حکومت نے جب اس پالیسی کو عوام کے درمیان میں پیش کیا، اس وقت بھی بہت سارے حلقوں سے اس پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ حکومت ایک مخصوص ذہنیت کے تحت اس تعلیمی پالیسی کو نافذ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ عوامی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے بی جے پی حکومت نے دعویٰ کیا کہ جو مسودہ منظر عام پر لایا گیا ہے ۔ اس میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔ اس ضمن میں تجاویز کو قبول کرنے کا بھی حکومت نے تیقن دیا۔ چناچہ ماہرین تعلیم اور دیگر حلقوں سے تعلیمی پالیسی میں موجود نقائص کی نشاندہی کی گئی اور یہ بتایا گیا کہ اگر اس تعلیمی پالیسی کو من و عن نافذکردیا جائے تو کیا کچھ نقصانات ہو سکتے ہیں۔ حکومت نے تجاویز تو قبول کرلیں لیکن اس پر غور و خوص کیے بغیر اس پالیسی کو پارلیمنٹ میں منظور کرلیا گیا اور پھر ملک میں نافذ کرنے کا بھی اعلان کر دیا گیا۔ یہ سب کام اس دوران ہوئے جب کہ ساری دنیا کورونا کی عالمی وباءسے پریشان تھی۔ خود ہمارے اپنے ملک میں ہزاروں لوگ کوویڈ۔۱۹ کا شکار ہوکرہلاک ہو رہے تھے۔ سارا تعلیمی نظام ٹھپ ہو چکا تھا۔ اسکول ، کالج اور یونیورسٹیاں بند تھیں ۔ ایسے وقت جب کہ پورے ملک میں خوف اور دہشت کے سائے بڑھتے جا رہے تھے، ان ناگہانی حالات میں ملک میں ایک نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذکا اقدام حکومت کی نیت کو ظاہر کرتا ہے۔ شہریوں کو موت کے منہ میں سے نکالنے اور ایسے بھیانک وقت اس کی مدد کرنے کے بجائے حکومت ایسے کاموں میں مصروف رہی جس کی اس وقت کوئی ضرورت نہیں تھی۔ حکومت کا منشاءاور مقصد یہی تھا کہ بغیر کسی عوامی مباحث کے ایک متنازعہ پالیسی کو ملک میں نافذکردیا جائے۔ حکومت اپنے اس مقصد میں کامیاب تو ہوگئی، لیکن آیا یہ تعلیمی پالیسی ملک کو اکیسویں صدی کے تقاضوں کو پوراکرنے میں ممدد و معاون ثابت ہوگی۔ ملک کے وزیراعظم نریندرمودی نے بارہا کہا کہ مجوزہ تعلیمی پالیسی ملک کی جڑوں سے جڑی ہوئی ہے۔ اس پالیسی کے ذریعہ آنے والی نسلوں کو معلوم ہوگا کہ ہندوستان کی صدیوں قدیم تہذیب و تمدن نے دنیا کی تاریخ پر کیا اثر ڈالا۔ اس بات کا بھی پتہ چلے گاکہ عہد قدیم میں ہندوستان علوم و فنون کی دنیا میں کتنا ترقی یافتہ تھا۔ وزیر اعظم کے ان دعوو¿ں کو ماہرین تعلیم قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ اس لیے مجوزہ تعلیمی پالیسی ہندوستان کو اس پراچین کال میں لے جائے گی ، جہاں کسی تہذیب و تمدن کی گنجائش نہیں تھی۔
نئی قومی تعلیمی پالیسی کے ذریعہ تعلیم کو زعفرانی رنگ دینے کی مبینہ کوشش کی جا رہی ہے۔ اس میں تعلیمی نصاب کے نام پر ایسے موضوعات شامل کئے گئے ہیں جس پر عمل کرنے سے اس ملک کے شہریوں کے مذہبی عقائد مجروح ہو تے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ سوریہ نمسکارکو نصاب میں شامل کیا گیا۔ ہر روز اسکول شروع ہونے پہلے ہر مذہب کے طالب علم کو لازمی ہوگا کہ وہ سوریہ نمسکار کرے۔ یہ عمل اسلام کے نظریہ توحید سے ٹکراتا ہے۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ سوائے ایک اللہ کے اس کائنات کا کوئی اور خالق نہیں ہے اور وہی عبادت اور بندگی کے لائق ہے۔ سوریہ نمسکار کے ذریعہ معصوم ذہنوں میں یہ بات ذہن نشین کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ سورج روشنی دیتا ہے لہٰذا وہ بھی خدا ہے، اس لیے اس کو بطور تعظیم نمسکار کیا جائے۔ اسی طرح یوگا کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا گیا۔اس کا مقصد بھی دراصل ایک طرح سے مخصوص مذہب کی علامت کو بزور طاقت پورے ملک کے شہریوں پر نافذ کرنا ہے۔ ہندوو¿ں کی مذہبی کتاب گیتا کو بھی نصاب میں شامل کر دیا گیا۔ملک کے دیگر مذاہب کی مذہبی کتابوں کو بھی نصاب میں شامل کیا جاتا تو کسی کو اعتراض نہ ہوتا۔ لیکن ایک خاص مذہب کی مذہبی کتاب کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اپنے نظریہ کو تمام ہندوستانیوں پر مسلط کرنا چاہتی ہے۔ نئی قومی تعلیمی پالیسی میں تاریخ کو جس انداز میں مسخ کرنے کی کوشش کی گئی اس سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے آنے والی نسلوں کو کسی ایک مخصوص قوم کے خلاف کھڑا کیا جا سکے۔ مسلم دور حکومت کو تاریخ کی کتابوں سے نکال دیا گیا۔ جب کہ ہندوستانی تاریخ کا عہد وسطی اپنی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی دور میں ہندوستان سیاسی طور پر متحد رہا۔ مذہبی روادری کی بے شمار مثالیں اس دور میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ مسلم حکمرانوں نے مذہب کے معاملے میں کسی پر کوئی زور زبردستی نہیں کی۔اسلام پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔ اس پروپگنڈا میں صداقت ہوتی تو آج ہندوستان کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔ مسلمانوں نے ہندوستان میں آٹھ سو سال تک حکومت کی لیکن ایک بھی ایسی مثال نہیں دی جا سکتی کہ مسلمانوں نے اسلام کی اشاعت کے لیے تلوار کا استعمال کیا ہو۔ یہ ایک ایسا الزام ہے کہ جس کو تاریخ کے ذریعہ ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں یہاں کی غیر مسلم آبادی کے ساتھ جس قسم کا برتاو¿ روا رکھا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں اپنے ہم مذہبوں سے زیادہ غیر مذہب کے لوگوں کا خیال رکھا۔ خاص طور پر مغلیہ دور حکومت میں بڑے بڑے عہدے اور منصب راجپوتوں کو دیے گئے۔ موجودہ عہد میں ٹیپو سلطان کو فرقہ پرست طاقتیں ایک جارح حکمران کی حیثیت سے پیش کرنے کی پوری کوشش کرتی رہی ہیں۔ ملک کے انصاف پسند ہندو مورخین نے اپنی تحقیق سے ثابت کیا کہ ٹیپوسلطان ایک سیکولر حکمران تھا۔ کئی ہندو مٹھوں اور مندروں کو اس کے خزانہ سے سرکاری امداد دی جاتی تھی۔ یہی حال دیگر مسلم حکمرانوں کا رہا۔ تاریخ کی ان حقیقتوں کو مٹاکر یہ باور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مسلم حکمران فرقہ پر ست اور ہندودشمن تھے۔ تنگ نظری اور تعصب کی انتہا کا یہ حال ہو گیا کہ حالیہ دنوں میں دہلی یونیورسٹی کے بی اے کے نصاب سے علامہ اقبال کی وہ مشہور زمانہ نظم خارج کر دی گئی جس میں حب الوطنی سے سرشار اشعار ہیں ۔ وطن کی محبت میں علامہ اقبال نے کہا تھا کہ ”سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا “۔ لیکن آج یہی نظم طلباءکو پڑھانے پر اساتذہ کو معطل کر دیا جا رہا ہے۔ جب کہ ہندوستان کے پہلے خلا باز راکیش شرما سے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے ان سے اپنے خلائی سفر کے دوران پوچھا تھا کہ خلا سے ہندوستان کیسے نظر آرہا ہے تو انہوں نے کہا تھا کہ ”سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا “لیکن اب علامہ اقبال کی یہ نظم پڑ ھنا جرم ہو گیا۔ یہ آج کے ہندوستان کی تصویر ہے !

a3w
a3w