شمالی بھارت

گینگسٹر عتیق احمد اور اشرف احمدکا قتل : ٹولی کے صفائے میں نام حاصل کرنا مقصود

60 سالہ احمد اور ان کے بھائی اشرف کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ 28 مارچ کو سپریم کورٹ نے عتیق احمد کی درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا تھا کہ اتر پردیش اسٹیٹ مشنری انہیں تحفظ فراہم کرے گی۔

پریاگ راج (یو پی) : 3 افراد جنہیں گینگسٹر سے سیاست داں بنے عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف احمد کو گولی مار کر ہلاک کرنے پر گرفتار کرلیا گیا ہے۔ کہا ہے کہ وہ گینگ کے صفائے میں اپنا نام اور شناخت چاہتے ہیں۔ یہ بات ایف آئی آر میں بتائی گئی۔

2بھائیوں کو تین افراد نے قریبی فاصلہ سے گولی مارکر ہلاک کردیا۔ یہ واردات اس وقت پیش آئی جبکہ پولیس انہیں طبی معائنہ کیلئے میڈیکل کالج لے جارہی تھی۔

3حملہ آوروں کی شناخت بنڈا کے 22سالہ‘ لاؤلش تیواری ہمیر پور کے 23سالہ موہت عرف سنی‘ اور کاس گنج کے 18سالہ ارون موریا کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ یہ بات راجیش کمار موریا نے بتائی جو کہ شاہ گنج پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا ہے کہ گرفتار کردہ افراد کے خلاف ایک ایف آر آئی درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے کہا کہ لاؤلش تیواری کراس فائرنگ کے دوران زخمی ہوگیا۔ جس کا سواروپ رانی میڈیکل کالج میں یہاں علاج کیا گیا۔ پولیس نے جرم کے مقام سے مستعملہ اسلحہ بھی برآمد کرلیا ہے۔

ملزمین نے پولیس کو بتایا کہ وہ عتیق اور اشرف کی ٹولی کا صفایا کرتے ہوئے ریاست میں اپنی شناخت اور نام کے خواہاں ہیں۔ یقینی طور پر مستقبل میں انہیں اس واردات اور ٹولی کے صفائے کیلئے یاد رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ واردات کے بعد فرار نہیں ہوسکے کیونکہ پولیس نے سبک رفتار کارروائی کرکے پکڑ لیا۔ملزمین نے کہا کہ انہیں جب اس کا علم ہوا کہ عتیق اور اشرف پولیس تحویل میں ہیں تو انہوں نے قتل کا منصوبہ بنایا تھا اور اب موقع ملتے ہی خود کو صحافیوں کی حیثیت سے ظاہر کرتے ہوئے دونوں کو ہلاک کردیا اور اپنے منصوبہ کو روبہ عمل لایا۔

ملزمین میں سے ایک نے پولیس کو یہ بات بتائی اور کہا کہ مستقبل میں یقینی طور پر ہم کو اس کے فوائد حاصل ہوں گے۔سرکاری عہدیداروں نے بتایا کہ چیف منسٹر اتر پردیش یوگی آدتیہ ناتھ نے عتیق اور ان کے بھائی کے قتل کی تحقیقات کیلئے تین رکنی جیوڈیشل کمیشن تشکیل دیا ہے۔

اس دوران نئی دہلی سے پی ٹی آئی کے مطابق عتیق احمد نے اتر پردیش پولیس کے ساتھ تحویل کے دوران تحفظ کی فراہمی کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی تھی جو کہ مسترد کردی گئی۔

گینگسٹر سے سیاست داں بنے عتیق احمد نے دو ہفتہ قبل سپریم کورٹ سے رجوع ہوکر یوپی پولیس تحویل کے دوران تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی تھی جو کہ مسترد دی گئی۔امیش پال قتل کیس میں انہیں پولیس نے تحویل میں لے لیا تھا۔

60 سالہ احمد اور ان کے بھائی اشرف کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ 28 مارچ کو سپریم کورٹ نے عتیق احمد کی درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا تھا کہ اتر پردیش اسٹیٹ مشنری انہیں تحفظ فراہم کرے گی۔

عتیق نے اپنی زندگی کو خطرہ محسوس کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی تھی۔ جسٹس اجئے رستوگی اور بی ایم تریویدی کی بنچ نے تحفظ کیلئے آلہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کی آزادی دی تھی۔ کیونکہ انہوں نے اپنی جان کو خطرہ پیدا ہونے کا ادعا کیا تھا۔

a3w
a3w