بھارت

قتل کے مجرم کی سزا عمر قید سے کم نہیں ہوسکتی: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے آج کہا کہ کسی قتل کے مجرم کو تعزیراتِ ہند کی دفعہ 302 کے تحت عمر قید سے کم کی سزا نہیں دی جاسکتی۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آج کہا کہ کسی قتل کے مجرم کو تعزیراتِ ہند کی دفعہ 302 کے تحت عمر قید سے کم کی سزا نہیں دی جاسکتی۔

جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس کرشنا مراری پر مشتمل بنچ نے کہا کہ اگر ملزم تعزیراتِ ہند کی دفعہ 302 کے تحت قابل سزا کسی جرم کا خاطی ہو تو اسے سزائے عمر قید سے کم کوئی بھی سزا دینا دفعہ 302 کے مغائر ہوگا۔

بنچ نے نوٹ کیا کہ دفعہ 302 کے تحت سزائے موت یا عمر قید اور جرمانہ کی سزا دی جاسکتی ہے۔ اقل ترین سزا عمر قید اور جرمانہ ہوگی۔

حکومت ِ مدھیہ پردیش کی ایک اپیل پر عدالت ِ عظمیٰ نے یہ فیصلہ صادر کیا، جس کے ذریعہ حکومت نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے ایک حکم کو چیلنج کیا تھا۔

ہائی کورٹ نے ملزم نندو عرف نندوا کی اپیل قبول کرتے ہوئے عمر قید کی سزا میں تخفیف کردی تھی، جب کہ اسے تعزیراتِ ہند کی دفعہ 147، 148، 323 اور 302/34 کے تحت خاطی برقرار رکھا تھا۔