بھارت

آر بی آئی نے سونا فروخت کرنے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا

مئی میں جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 03 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے میں مرکزی بینک کے سونے کے ذخائر میں 180 کلوگرام کا اضافہ ہوا تھا، جس سے یہ مارچ کے 880.34 ٹن سے بڑھ کر 880.52 ٹن پر پہنچ گیا تھا۔

ممبئی :  ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے غیر ملکی میڈیا میں آنے والی ان رپورٹوں کی سخت تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مرکزی بینک نے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر (فاریکس ریزرو) میں کمی کو روکنے کے لیے بھاری مقدار میں سونا بیچا ہے۔

مرکزی بینک نے بدھ کے روز ایک پریس ریلیز میں کہا کہ یہ رپورٹیں "درست نہیں ہیں”۔ بینک نے واضح کیا کہ وہ ہر ماہ اپنے پاس موجود فزیکل گولڈ کے اعداد و شمار جاری کرتا ہے۔

پریس ریلیز میں وضاحت کی گئی ہے کہ مئی میں جاری ہونے والی آخری رپورٹ اس کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے، اور اس کا لنک بھی شیئر کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی صاف کیا گیا ہے کہ آج کی تاریخ میں بھی سونے کے ذخائر 880.52 ٹن پر برقرار ہیں، جتنے مئی میں جاری کردہ اپریل کے مہینے کی رپورٹ میں تھے۔

مئی میں جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 03 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے میں مرکزی بینک کے سونے کے ذخائر میں 180 کلوگرام کا اضافہ ہوا تھا، جس سے یہ مارچ کے 880.34 ٹن سے بڑھ کر 880.52 ٹن پر پہنچ گیا تھا۔

موجودہ وقت میں دنیا بھر میں جاری تجارتی اور جیو پولیٹیکل (جغرافیائی و سیاسی) غیر یقینی صورتحال کے درمیان ریزرو بینک ایک سال میں 940 کلوگرام سونا خرید چکا ہے۔ گزشتہ سال 02 مئی کو مرکزی بینک کے پاس 879.58 ٹن سونا تھا۔

آر بی آئی کی جانب سے آج جاری پریس ریلیز میں عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات میں صرف مرکزی بینک کی طرف سے شائع کردہ سرکاری معلومات پر ہی بھروسہ کریں۔

قابلِ ذکر ہے کہ کچھ غیر ملکی میڈیا اداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ آر بی آئی نے 12 ارب ڈالر مالیت کے برابر سونا بیچا ہے