بین الاقوامی

امریکہ کا پہلی بار ”بی ون بمبار طیارہ“سے ایران پر حملہ

امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ ایران پر مسلسل بارہویں رات فضائی حملے کئے گئے ہیں جن میں ایرانی فوجی کمانڈ سنٹرس اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔سینٹکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کو ناکارہ بنانے کے لئے امریکی فوج نے ایران کے ساحلی نگرانی کے مراکز‘ مزائل اور ڈرون لانچ سائٹس کو بھی نشانہ بنایا۔

واشنگٹن/تہران: امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ ایران پر مسلسل بارہویں رات فضائی حملے کئے گئے ہیں جن میں ایرانی فوجی کمانڈ سنٹرس اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔سینٹکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کو ناکارہ بنانے کے لئے امریکی فوج نے ایران کے ساحلی نگرانی کے مراکز‘ مزائل اور ڈرون لانچ سائٹس کو بھی نشانہ بنایا۔

ادھر ایرانی سرکاری میڈیا نے توثیق کی ہے کہ ایران کے شہر اہواز میں زوردار دھماکہ کی آواز سنی گئی۔ ماہشہر‘ سیریک اور سرافان میں بھی متعدد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ جنوبی ایران کی بندرگاہ ماہشہر میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ سرافان میں 6 دھماکے ہونے کی اطلاعات ہیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق ایران میں امریکی حملوں کے نتیجہ میں شہید ہونے والوں کی تعداد 53 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 592 تک پہنچ گئی۔ یہ ہلاکتیں 27 جون سے 22 جولائی کے دوران ہونے والے امریکی حملوں کے نتیجہ میں ہوئی ہیں۔ امریکی فوج نے لڑائی کے دوبارہ آغاز کے بعد پہلی بار بی ون بمبار نے پاسداران انقلاب کے اہداف کونشانہ بنایا۔

یہ طیارہ 2000 پاؤنڈ وزنی 24 بم یا درجنوں مزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔تفصیلات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے خاتمہ اور لڑائی کے دوبارہ آغاز کے بعد امریکی افواج نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لئے پہلی بار طویل فاصلہ تک مار کرنے والے انتہائی تباہ کن ”بی ون بمبار طیارے“کا استعمال کرنا شروع کردیا۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی فوج نے کل پاسدارانِ انقلاب کے اہم فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کے لئے اس بھاری بمبار طیارہ کے ذریعہ مشن سرانجام دیا۔