قومی
ٹرینڈنگ

عرس سے واپسی پر مولانا توصیف رضا کا ٹرین میں بہیمانہ قتل، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور آخری کال نے کھولا سچ، اویسی کا سخت ردِعمل

توصیف رضا کی لاش بریلی کے تھانہ کینٹ علاقہ میں ریلوے ٹریک کے قریب سے ملی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے پولیس کے حادثاتی موت کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے:

بریلی/کشن گنج: اتر پردیش کے شہر بریلی میں عرس سے واپس لوٹ رہے بہار کے ایک نوجوان، مولانا توصیف رضا کی موت نے اب ایک سنگین رخ اختیار کر لیا ہے جسے ابتدائی طور پر ایک ٹرین حادثہ قرار دیا جا رہا تھا، اب پوسٹ مارٹم رپورٹ اور مقتول کی اپنی اہلیہ سے آخری گفتگو کے بعد اسے باقاعدہ منصوبہ بند قتل سمجھا جا رہا ہے۔

اہلیہ کو کی گئی آخری کال: "مجھے بچا لو”
بہار کے ضلع کشن گنج کے رہائشی مولانا توصیف رضا 27 اپریل کو بریلی میں منعقدہ عرس میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ واپسی کے سفر کے دوران انہوں نے اپنی اہلیہ کو فون کیا، جس میں ان کی آواز انتہائی خوفزدہ تھی۔ توصیف نے بتایا کہ ٹرین میں کچھ لوگ ان کے ساتھ مارپیٹ کر رہے ہیں اور انہوں نے مدد کی فریاد کی۔ اسی دوران فون چھین لیا گیا اور رابطہ منقطع ہو گیا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے سنسنی خیز انکشافات
توصیف رضا کی لاش بریلی کے تھانہ کینٹ علاقہ میں ریلوے ٹریک کے قریب سے ملی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے پولیس کے حادثاتی موت کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے:

مقتول کے ایک ہاتھ اور ایک پیر میں فریکچر پایا گیا ہے۔

جسم پر شدید چوٹوں کے نشانات ہیں، جو ظاہر کرتے ہیں کہ انہیں بری طرح پیٹا گیا تھا۔

جسم پر ایسے نشانات بھی ملے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ انہیں گھسیٹا گیا تھا۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مارپیٹ کے بعد جب وہ بے ہوش ہو گئے، تو انہیں چلتی ٹرین سے نیچے پھینک دیا گیا۔

اس واقعے نے پورے ملک، بالخصوص مسلم طبقہ میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔

اسد الدین اویسی: مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے ٹویٹ کے ذریعے اس واقعہ کی سخت مذمت کی اور وزیر ریل سے اس معاملے میں مداخلت اور غیر جانبدارانہ انکوائری کا مطالبہ کیا۔

مولانا شہاب الدین رضوی: آل انڈیا مسلم جماعت کے قومی صدر نے اسے "سیدھا قتل” قرار دیتے ہوئے سی بی آئی (CBI) انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے سچائی واضح کر دی ہے۔

ایس پی سٹی مانوش پاریک کے مطابق، پولیس ابھی تک اہل خانہ کی جانب سے تحریری شکایت کا انتظار کر رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جیسے ہی شکایت موصول ہوگی، قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔

ایک نوجوان جو عقیدت کے سفر پر نکلا تھا، نفرت یا جرائم کا شکار ہو کر اپنی جان گنوا بیٹھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ریلوے پولیس اور انتظامیہ توصیف رضا کے افراد خاندان کو انصاف دلا پاتی ہے یا نہیں۔