ایل پی جی صارفین ہوشیار! گیس کنکشن ہو سکتا ہے بند، یکم مئی سے نئے قوانین کا اطلاق
وہ صارفین جنہوں نے جون 2025 سے پہلے سلنڈر ری فل کروایا تھا اور اس کے بعد سے خاموش ہیں، انہیں 'غیر فعال' تسلیم کیا جائے گا۔ ایسے صارفین تب تک نیا آرڈر نہیں دے سکیں گے جب تک وہ ویریفکیشن مکمل نہیں کر لیتے۔
نئی دہلی: ہندوستان میں تیل کمپنیوں اور حکومت نے ایل پی جی کنکشنس کیلئے آدھار پر مبنی ای-کے وائی سی (e-KYC) کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ یہ اقدام فرضی کنکشنس کو ختم کرنے اور سبسڈی کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
کن حالات میں بند ہو سکتا ہے کنکشن؟
جن صارفین نے ابھی تک اپنا آدھار کارڈ ویریفکیشن مکمل نہیں کیا، انہیں سلنڈر کی ڈیلیوری روک دی جائے گی۔
وہ صارفین جنہوں نے جون 2025 سے پہلے سلنڈر ری فل کروایا تھا اور اس کے بعد سے خاموش ہیں، انہیں ‘غیر فعال’ تسلیم کیا جائے گا۔ ایسے صارفین تب تک نیا آرڈر نہیں دے سکیں گے جب تک وہ ویریفکیشن مکمل نہیں کر لیتے۔
آدھار ویریفیکیشن: اب ہر گیس صارف (خاص طور پر اجولا یوجنا کے تحت) کو اپنا آدھار لنک کروانا اور بائیومیٹرک یا ای-کے وائی سی مکمل کرنا ہوگا۔
او ٹی پی اب سلنڈر کی وصولی کے وقت آپ کے رجسٹرڈ موبائل نمبر پر ایک Delivery Authentication Code (DAC) یعنی او ٹی پی آئے گا۔ بغیر او ٹی پی بتائے ڈیلیوری بوائے آپ کو سلنڈر نہیں دے گا۔
بکنگ کے درمیان وقفہ: دو سلنڈر بک کروانے کے درمیانی وقفے کو بڑھایا جا رہا ہے تاکہ گیس کی ذخیرہ اندوزی اور کمرشل استعمال کو روکا جا سکے۔
عام صارفین کو اب کیا کرنا چاہیے؟
پریشانی سے بچنے کے لیے درج ذیل کام فوری مکمل کریں:
فوری ای-کے وائی سی (e-KYC): اپنی گیس ایجنسی پر جا کر یا آن لائن ایپ کے ذریعے آدھار ویریفیکیشن مکمل کریں۔
موبائل نمبر اپ ڈیٹ: یقینی بنائیں کہ آپ کا موجودہ موبائل نمبر گیس ایجنسی کے پاس رجسٹرڈ ہے تاکہ او ٹی پی (OTP) موصول ہو سکے۔
پرانے صارفین: اگر آپ نے طویل عرصے سے گیس نہیں منگوائی، تو فوری طور پر اپنی ایجنسی سے رابطہ کر کے ریکارڈ درست کروائیں۔
نوٹ: جن صارفین نے حال ہی میں اپنی ویریفیکیشن مکمل کر لی ہے، انہیں دوبارہ کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔