کالا ہرن تنازعہ سلمان خان عدالت پہنچ گئے، فلم پر پابندی کی درخواست
نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ کیس کی سنسنی خیز تصویر کشی سلمان کے خلاف تعصب پیدا کر سکتی ہے اور منصفانہ ٹرائل کے حق سے سمجھوتہ کر سکتی ہے۔
ممبئی : بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے 1998 کے کالے ہرن کیس سے متاثر فلم کالا ہرن کے بنانے والوں کو قانونی نوٹس بھیجا ہے، جس میں ’شخصیت کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی‘ کا الزام لگایا گیا ہے اور مطالبہ کیا ہیکہ فلم کی نمائش پر روک لگائی جائےکالا ہرن کے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو جاری کیے گئے قانونی نوٹس کے مطابق، 61 سالہ اداکار نے فلم کی ریلیز اور پروجیکٹ پر پروموشن روکنے کی درخواست کی ہے۔
نوٹس میں الزام لگایا گیا ہے کہ فلم کیس سے متعلق جاری عدالتی کارروائی میں مداخلت کر سکتی ہے اور سلمان کے ذاتی حقوق کی خلاف ورزی کر سکتی ہے۔ انکا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس منصوبے سے اس کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ چونکہ کالے ہرن فلم کے تعلق سے راجستھان ہائی کورٹ میں ایک عزضداشت کی سماعت زیر التوا ہے، اس لیے قانونی نوٹس میں دلیل دی گئی ہے کہ فلم قانونی عمل میں مداخلت کر سکتی ہے۔
نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ کیس کی سنسنی خیز تصویر کشی سلمان کے خلاف تعصب پیدا کر سکتی ہے اور منصفانہ ٹرائل کے حق سے سمجھوتہ کر سکتی ہے۔
سلمان خان کی قانونی ٹیم نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ انہیں اس پروجیکٹ کے بارے میں اس وقت علم ہوا جب اداکار اکشے پانڈے مبینہ طور پر دیگر اداکاروں سے رابطہ کر رہے تھے اور سلمان کے کالے ہرن کیس کا حوالہ دیتے ہوئے فلم کے خلاصے اور کردار کے خاکے جیسے مواد کی مختلف ذرائع سے ترسیل کر رہے تھے۔ نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ اداکار نے اپنے نام، شخصیت یا مبینہ طور پر اس سے جڑے واقعات کے ایسے کسی بھی استعمال کی اجازت یا رضامندی نہیں دی ہے۔
پروڈیوسر امت جانی نے کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی کے بنانے والوں کو سلمان خان کی قانونی ٹیم کی طرف سے بھیجے گئے قانونی نوٹس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ نوٹس قبل از وقت ہے نیز یہ فلم سلمان خان کی بائیوپک یا سلمان خان کی سوانحی فلم نہیں ہے، بلکہ عوامی ڈومین کے واقعات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے ساتھ بشنوئی برادری کے تعلق پر مبنی ایک وسیع بیانیہ ہے۔