ریونت ریڈی کا بڑا فیصلہ، حیدرآباد کے آٹو ڈرائیوروں کو الیکٹرک گاڑیوں کا تحفہ، پورا خرچ حکومت اٹھائے گی
تلنگانہ کی کانگریس حکومت نے حیدرآباد کے آٹو ڈرائیوروں کیلئے ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آؤٹر رنگ روڈ کے حدود میں چلنے والے تمام ڈیزل آٹورکشاؤں کو الیکٹرک گاڑیوں میں تبدیل کرنے کا مکمل خرچ حکومت برداشت کرے گی۔
حیدرآباد: تلنگانہ کی کانگریس حکومت نے حیدرآباد کے آٹو ڈرائیوروں کیلئے ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آؤٹر رنگ روڈ کے حدود میں چلنے والے تمام ڈیزل آٹورکشاؤں کو الیکٹرک گاڑیوں میں تبدیل کرنے کا مکمل خرچ حکومت برداشت کرے گی۔
چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بتایا کہ ایک آٹو کو ڈیزل سے الیکٹرک میں تبدیل کرنے پر تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار روپے خرچ آئیں گے، اور یہ پوری رقم ریاستی حکومت ادا کرے گی۔
حیدرآباد میں تقریباً دو لاکھ آٹورکشا موجود ہیں، جن میں اکثریت اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد چلاتے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ فی الحال ایک آٹو ڈرائیور روزانہ تین سو سے چار سو روپے صرف ایندھن پر خرچ کرتا ہے، لیکن الیکٹرک گاڑی میں تبدیلی کے بعد ڈرائیور ہر ماہ تقریباً دس ہزار روپے کی بچت کر سکے گا۔
حکومت نے اس منصوبے کیلئے پانچ کمپنیوں کے ساتھ بات چیت کی ہے اور آئندہ ایک یا دو ماہ میں تمام طریقہ کار کو حتمی شکل دی جائے گی۔ آٹو ڈرائیوروں کو آن لائن درخواست دینی ہوگی، جس کے بعد حکومت ڈیزل انجن کی جگہ الیکٹرک انجن لگانے کا پورا خرچ برداشت کرے گی۔
چیف منسٹر نے یہ اعلان حجاج کرام کی روانگی کیلئے خصوصی بسوں کو جھنڈی دکھانے کے بعد کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایران جنگ اور ایندھن کی قلت کے باعث مرکزی حکومت نے حج کے فضائی کرایوں میں دس ہزار روپے کا اضافہ کیا تھا، لیکن تلنگانہ حکومت نے تقریباً سات ہزار عازمین حج کیلئے یہ اضافی رقم خود ادا کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی اور وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہرالدین نے اس مسئلے کو حکومت کے سامنے رکھا تھا، جس کے بعد فوری فیصلہ لیا گیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت اس کے بدلے میں کچھ نہیں مانگ رہی، صرف یہ خواہش ہے کہ حجاج کرام تلنگانہ حکومت کیلئے دعا کریں۔
اپنی تقریر میں چیف منسٹرریونت ریڈی نے خصوصی انتخابی نظرثانی اور بعض سیاسی جماعتوں کی انتخابی حکمت عملی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ کیرالا، تمل ناڈو، کرناٹک اور تلنگانہ میں ایسی طاقتوں کو روکا گیا ہے، جبکہ آندھرا پردیش میں چندرابابو نائیڈو کے ذریعے انہیں داخل ہونے کا موقع ملا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تلنگانہ میں ایسی کوششوں کو متحد ہو کر ناکام بنانا ہوگا۔
چیف منسٹر نے یہ بھی کہا کہ حیدرآباد پر قبضہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، لیکن عوام کو متحد ہوکر ایسے عزائم کو ناکام بنانا چاہئے۔