سوشیل میڈیاقومی
ٹرینڈنگ

مسلمان ہونے پر غریب سے کھانے کی پلیٹ چھین لی گئی؟ ہندو رکشا دل کی انتہائی شرمناک حرکت

یہ ویڈیو ہندو رکشا دل کے سربراہ بھوپیندر تومر عرف پنکی چودھری کی بتائی جارہی ہے۔ ویڈیو میں وہ ایک غریب شخص کے ہاتھ سے کھانے کی پلیٹ چھینتے ہوئے کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ “ہم ملاّؤں کو کھانا نہیں دیں گے، چاہے کسی کو برا لگے۔ یہاں صرف ہندو آئیں، مسلمان نہ آئیں۔”

ملک میں اب شاید بھوک سے پہلے مذہب پوچھا جائے گا۔ روٹی دینے سے پہلے نام دیکھا جائے گا، اور انسانیت کو بھی مذہب کے ترازو میں تولا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو نے ایسے ہی کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں، جہاں غریبوں میں کھانا تقسیم کرنے کے دوران ایک شخص سے صرف اس لیے کھانے کی پلیٹ چھین لی گئی کیونکہ وہ مسلمان تھا۔

متعلقہ خبریں
غازی آباد میں نمازِ جمعہ روکنے کی کوشش، ملک میں بڑھتی مذہبی کشیدگی پر سنگین سوالات
پلر نمبر 100 پر سنسنی خیز واقعہ، نشے میں دھت شخص تار سے لٹک گیا
پولیس کی موجودگی میں وکیل کو دفتر میں گھس کر گولی مار دی گئی

یہ ویڈیو ہندو رکشا دل کے سربراہ بھوپیندر تومر عرف پنکی چودھری کی بتائی جارہی ہے۔ ویڈیو میں وہ ایک غریب شخص کے ہاتھ سے کھانے کی پلیٹ چھینتے ہوئے کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ “ہم ملاّؤں کو کھانا نہیں دیں گے، چاہے کسی کو برا لگے۔ یہاں صرف ہندو آئیں، مسلمان نہ آئیں۔”

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پنکی چودھری تنازع میں آئے ہوں۔ ان پر پہلے بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات دینے اور اشتعال انگیزی پھیلانے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ سال 2021 میں جنتر منتر پر ہونے والی ایک ریلی میں فرقہ وارانہ نعرے بازی کے معاملے میں بھی ان کا نام سامنے آیا تھا، جس کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔

غازی آباد میں ایک مذہبی تقریب کے دوران بھی انہوں نے مسلمانوں کے خلاف متنازع بیان دیتے ہوئے انہیں “جہادی” کہا تھا اور ہندوؤں سے اپیل کی تھی کہ وہ مسلمانوں کو اپنے علاقوں میں گھر خریدنے نہ دیں۔

رواں سال فروری 2026 میں بھی ان کی تنظیم نے اتر پردیش کی ایک شاہراہ پر “مسلمانوں کیلئے راستہ نہیں” جیسے نعرے لکھ دیے تھے۔ اس حرکت کا دفاع کرتے ہوئے پنکی چودھری نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت میں صرف ہندو ہی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

ہندو رکشا دل، غازی آباد میں قائم ایک شدت پسند ہندو تنظیم مانی جاتی ہے، جس کے ارکان پر تلواریں بانٹنے اور مسلم مخالف نعرے لگانے کے الزامات بھی لگ چکے ہیں۔

اگست 2024 میں پنکی چودھری کی قیادت میں ایک ہجوم نے غازی آباد کی ایک مسلم بستی پر حملہ بھی کیا تھا، جہاں گھروں میں توڑ پھوڑ، سامان جلانے اور لوگوں کو ڈنڈوں سے مارنے کے واقعات سامنے آئے تھے۔

سوشل میڈیا پر وائرل تازہ ویڈیو کے بعد ایک بار پھر سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا اب اس ملک میں انسانیت بھی مذہب دیکھ کر بانٹی جائے گی؟ کیا بھوکوں کو کھانا دینے سے پہلے ان کا مذہب پوچھا جائے گا؟ یہی سوال آج عوام کے ذہنوں میں گردش کررہا ہے۔