دہلی

سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیے جانے پر جذباتی ہوئے سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے، آنکھوں سےنکل آئے آنسو

دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج جاری ہے۔ اس تحریک کی حمایت میں معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک گزشتہ کئی دنوں سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر تھے۔

نئی دہلی: نیٹ (NEET) پیپر لیک معاملے پر جاری احتجاج کے دوران ہفتہ کے روز ایک جذباتی منظر دیکھنے میں آیا، جب کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دیپکے سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔

دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج جاری ہے۔ اس تحریک کی حمایت میں معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک گزشتہ کئی دنوں سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر تھے۔

ہفتہ کی صبح سونم وانگچک کی طبیعت بگڑنے کے بعد دہلی پولیس انہیں صفدرجنگ اسپتال منتقل کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ڈاکٹروں کے مشورے اور دہلی ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق ان کی ضروری طبی دیکھ بھال کے لیے کیا گیا۔

سونم وانگچک کو احتجاجی مقام سے ہٹائے جانے کے بعد مظاہرین میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔ اسی دوران سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ احتجاجی کارکنوں نے اس موقع پر حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے۔

سی جے پی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سونم وانگچک کو احتجاج ختم کرانے کے لیے زبردستی اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم پولیس نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں صرف طبی ضرورت کے پیش نظر اسپتال لے جایا گیا۔

ادھر، احتجاجی منتظمین نے واضح کیا ہے کہ ان کی تحریک جاری رہے گی اور 20 جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مجوزہ مارچ اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق منعقد کیا جائے گا۔

دوسری جانب، اس معاملے پر مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کی نظریں بھی مرکوز ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر ابھیجیت دیپکے کی جذباتی ویڈیو پر صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔