حیدرآباد

حیدرآباد میں کانگریس اور بی جے پی کارکنوں میں تصادم، پولیس کا لاٹھی چارج

پولیس نے ریلی کو لوک بھون کے قریب روک دیا اور بی مہیش کمار گوڑ، وزراء دامودر راجا نرسمہا، پونگولیٹی سرینواس ریڈی، محمد اظہر الدین سمیت متعدد کانگریسی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں بدھ کے روز کانگریس اور بی جے پی کے کارکنوں کے درمیان اس وقت کشیدگی پیدا ہو گئی جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ صورتحال اس قدر بگڑ گئی کہ پولیس کو مداخلت کرتے ہوئے لاٹھی چارج کرنا پڑا اور دونوں جماعتوں کے کئی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا۔

کانگریس کی جانب سے "چلو لوک بھون” ریلی کا اہتمام کیا گیا، جس کا مقصد مبینہ نیٹ پیپر لیک اور نئی دہلی میں راہول گاندھی سمیت دیگر کانگریسی رہنماؤں کی حراست کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بی مہیش کمار گوڑ کی قیادت میں ریلی نیکلس روڈ پر اندرا گاندھی کے مجسمے سے لوک بھون، سوماجی گوڑہ کی جانب روانہ ہوئی۔

پولیس نے ریلی کو لوک بھون کے قریب روک دیا اور بی مہیش کمار گوڑ، وزراء دامودر راجا نرسمہا، پونگولیٹی سرینواس ریڈی، محمد اظہر الدین سمیت متعدد کانگریسی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔

دوسری جانب تلنگانہ بی جے پی کے صدر این رام چندر راؤ کی قیادت میں بی جے پی کارکنوں نے پارٹی کے ریاستی دفتر سے گاندھی بھون تک جوابی ریلی نکالی۔ یہ احتجاج نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر کانگریس کے مظاہرے کے خلاف کیا گیا۔

جب بی جے پی کارکن گاندھی بھون کے قریب پہنچے تو کانگریس کے کارکن بھی باہر آ گئے، جس کے بعد دونوں جماعتوں کے کارکن آمنے سامنے آ گئے۔ دونوں جانب سے شدید نعرے بازی ہوئی، تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا۔

اطلاعات کے مطابق تصادم کے دوران بعض کارکنوں نے لاٹھیاں بھی استعمال کیں، جبکہ کچھ کانگریسی کارکن احتجاجاً پولیس کی گاڑیوں پر چڑھ گئے۔ پہلے سے بھاری تعداد میں تعینات پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور مظاہرین کو منتشر کر دیا۔

ادھر وزیرِ اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے اپنے اسمبلی حلقہ کوڈنگل میں اپنی رہائش گاہ سے امبیڈکر چوراستہ تک احتجاجی مارچ کیا۔ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسمے پر گلپوشی کے بعد انہوں نے نئی دہلی میں راہول گاندھی، پریانکا گاندھی اور احتجاج کرنے والے طلبہ کی حراست کی مذمت کی۔

اسی طرح نائب وزیرِ اعلیٰ ملو بھٹی وکرمارکا، وزیر کونڈا سریکھا اور متعدد کانگریسی ارکانِ اسمبلی نے بھی ہنمکنڈہ میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

ریاست کے مختلف مقامات پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے، جبکہ حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔