کانگریس کی 6 دہائیوں بعد حکومت میں واپسی۔ ٹاملناڈو کابینہ میں بڑی توسیع، قلمدانوں میں ردوبدل۔
ٹاملناڈو میں چیف منسٹر سی جوزف وجئے نے حکمرانی کو مضبوط بنانے اور نمائندگی کو وسعت دینے کے مقصد کابینہ میں بڑی توسیع کرتے ہوئے 23 نئے وزرا کو شامل کیا ہے اور اہم قلمدانوں میں بھی بڑے پیمانہ پر ردوبدل کیا گیا۔
چینائی(آئی اے این ایس) ٹاملناڈو میں چیف منسٹر سی جوزف وجئے نے حکمرانی کو مضبوط بنانے اور نمائندگی کو وسعت دینے کے مقصد کابینہ میں بڑی توسیع کرتے ہوئے 23 نئے وزرا کو شامل کیا ہے اور اہم قلمدانوں میں بھی بڑے پیمانہ پر ردوبدل کیا گیا۔
یہ اقدام ٹی وی کے زیرقیادت حکومت کے قیام کے 2 ہفتہ سے بھی کم عرصہ میں کیا گیا ہے اور اسے علاقائی‘ سماجی اور اتحادی تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کے طورپر دیکھا جارہا ہے۔ اس میں کانگریس نمائندوں کو بھی وزارت میں شامل کیا گیا ہے جو ایک اہم سیاسی پیشرفت سمجھی جارہی ہے۔
کلی یور کے ایس راجیش کمار اورمیلور کے پی وشواناتھن کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے جس کے ساتھ ہی تقریباً 6 دہائیوں بعد کانگریس کی ٹاملناڈو حکومت میں واپسی ہوئی ہے۔ راجیش کمار کو سیاحت کا قلمدان دیا گیا ہے جبکہ وشواناتھ کو اعلیٰ تعلیم بشمول تکنیکی تعلیم‘ الکٹرانکس‘ سائنس و ٹکنالوجی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
چیف منسٹر وجئے نے داخلہ‘ پولیس اور جنرل اڈمنسٹریشن جیسے اہم محکمے اپنے پاس رکھے ہیں جبکہ خصوصی اقدامات اور غربت کے خاتمہ سے متعلق امور بھی براہ راست اپنی نگرانی میں شامل کرلئے ہیں۔ وزیر ایم آنند نے غربت کے خاتمہ سے متعلق ذمہ داریاں چھوڑدی ہیں جبکہ آر نرمل کمار کے قانون اور توانائی کے قلمدان میں تبدیلی کی گئی ہے۔
کے اے سنگوٹائین کو فینانس سے ریونیو اور ڈیزاسٹر مینجمٹ کے محکمہ میں منتقل کیا گیا ہے۔ اہم محکمہ فینانس‘ منصوبہ بندی اور ترقی نئے وزیر این ولسن کو سونپا گیا ہے۔ طویل عرصہ سے زیرالتوا کئی سیکٹرس کے لئے بھی وزرا کا تقرر کیا گیا ہے۔
ونود کو زراعت‘ بی راج کمار کو ہاؤزنگ‘ کمار آر کو اے آئی اور ڈیجیٹل سرویسس‘ محمد فروازکو لیبر ویلفیر اور اسکل ڈیولپمنٹ کا قلمدان سونپا گیا ہے۔ جگدیشوری کو سوشل ویلفیر اور ویمن امپاورمنٹ کا محکمہ دیا گیا ہے۔