بھوج شالہ میں ہندوؤں کیلئے مفت داخلہ کا مطالبہ، ہائی کورٹ‘ مرکز اور محکمہ آثارقدیمہ کو 2 افراد کی درخواست
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی جانب سے دھار کے بھوج شالہ کامپلکس کو واگ دیوی کا مندر قراردیئے جانے کے چند دن بعد ہندو فریق کے 2 درخواست گزاروں نے بھکتوں کے لئے مفت داخلہ کا مطالبہ کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس عمارت کے نیچے ہنومان اور دیگر دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں دبی ہوئی ہیں۔
اندور (پی ٹی آئی) مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی جانب سے دھار کے بھوج شالہ کامپلکس کو واگ دیوی کا مندر قراردیئے جانے کے چند دن بعد ہندو فریق کے 2 درخواست گزاروں نے بھکتوں کے لئے مفت داخلہ کا مطالبہ کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس عمارت کے نیچے ہنومان اور دیگر دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں دبی ہوئی ہیں۔
درخواست گزار آشیش گوئل نے جو ہندو فرنٹ فار جسٹس سے وابستہ ہیں‘ چہارشنبہ کے روز محکمہ آثار ِ قدیمہ(اے ایس آئی) کو دی گئی اپنی درخواست میں کہا کہ بھکتوں سے موجودہ ایک روپیہ داخلہ فیس بھی وصول نہیں کی جانی چاہئے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ فیس وصول کرنا 15 مئی کے ہائی کورٹ کے حکم کی نافرمانی کے مترادف ہے جس میں اس مقام کو مندر کے طورپر تسلیم کیا گیا ہے۔ گوئل نے کامپلکس کے جنوب مشرقی حصہ میں موجود ایک مقفل کمرہ کو فوری طورپر کھولنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ اصل مندر کے ڈھانچہ کا ایک حصہ ہے اور ہائی کورٹ کے فیصلہ کے پیش نظر احاطہ سے غیرمجاز اسلامی علامات ہٹائی جانی چاہئیں۔ ایک اور درخواست گزار کلدیپ تیواری نے بھی مرکزی وزارت ِ ثقافت اور محکمہ آثارِ قدیمہ کو بھیجی گئی علیحدہ درخواست میں بھی اسی نوعیت کا مطالبہ کیا ہے۔
تیواری کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر یہ مضبوط یقین پایا جاتا ہے کہ بھگوان ہنومان اور دیگر ہندو دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں کامپلکس کے نیچے دفن ہیں اور انہیں نکال کر مذہبی رسومات کے ساتھ دوبارہ نصب کرنے کے لئے سائنٹفک کھدائی کرائی جانی چاہئے۔