وزراء کی سفارشات کے باوجود محکمہ جنگلات کے 25 عہدیدار وں کی ڈپوٹیشن منسوخ
تلنگانہ کے محکمہ جنگلات میں اس وقت ایک انتظامی تنازعہ سامنے آیا ہے، جہاں پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ (PCCF) ونئے کمار کی جانب سے 25 افسران اور ملازمین کی ڈپوٹیشن منسوخ کیے جانے پر بحث چھڑ گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ محکمہ جنگلات کی وزیر کونڈا سریکھا اور دیگر وزراء و عوامی نمائندوں کی سفارشات کے باوجود کیا گیا۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے محکمہ جنگلات میں اس وقت ایک انتظامی تنازعہ سامنے آیا ہے، جہاں پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ (PCCF) ونئے کمار کی جانب سے 25 افسران اور ملازمین کی ڈپوٹیشن منسوخ کیے جانے پر بحث چھڑ گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ محکمہ جنگلات کی وزیر کونڈا سریکھا اور دیگر وزراء و عوامی نمائندوں کی سفارشات کے باوجود کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق، محکمہ جنگلات کے 25 افسران اور ملازمین نے خاندانی ضروریات اور مقامی حالات کے پیش نظر اپنی ڈپوٹیشن کسی دوسرے مقام یا دوسرے محکمے میں کیے جانے کی درخواست کی تھی۔ ان کی درخواستوں کی حمایت وزیر جنگلات کونڈا سریکھا، وزراء سری دھر بابو، پونم پربھاکر، جوپلی کرشنا راؤ، تممالا ناگیشور راؤ، ٹی پی سی سی صدر مہیش کمار گوڑ اور ارکان اسمبلی چکّوڈو ومشی کرشنا اور سنجے نے بھی کی تھی۔
اطلاعات کے مطابق، سابق پی سی سی ایف سورنا نے ان ڈپوٹیشنوں کی منظوری دے دی تھی، لیکن 30 جون کو عہدہ سنبھالنے کے بعد نئے پی سی سی ایف ونئے کمار نے تمام 25 ڈپوٹیشن احکامات منسوخ کر دیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر کونڈا سریکھا نے بعد ازاں ان ڈپوٹیشنوں کو دوبارہ بحال کرنے اور متعلقہ افسران کو ڈپوٹیشن پر بھیجنے کی ہدایت بھی دی، تاہم ان ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا۔
اس معاملے نے سرکاری و سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بعض حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں بھی جاری ہیں کہ اگر ایک اعلیٰ افسر وزراء کی سفارشات پر بھی عمل نہیں کر رہا تو اس کے پیچھے کسی بااثر شخصیت کی حمایت ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس حوالے سے نہ پی سی سی ایف ونئے کمار اور نہ ہی ریاستی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے۔
فی الحال اس معاملے پر کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے اور مزید وضاحت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔