سیکشن 22 اے کی ممنوعہ فہرست میں شامل پلاٹ کیسے نکل سکتا ہے؟ مکمل رہنمائی
ریاست تلنگانہ میں ایسی کئی جائیدادیں ہیں۔ جن کو سیکشن 22 اے کے تحت ممنوعہ فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی بھی سروے نمبر میں کوئی جائیداد سرکاری ہے یا وقف کی ملکیت ہے یا انڈومنٹ یا ہندو اوقاف کی جائیداد ہے۔
سوال: ہمارا ایک پلاٹ ہے جو میڑچل ضلع میں واقع ہے۔ جب ہم وہ پلاٹ فروخت کرنے کی کوشش کئے اور اس سلسلہ میں رجسٹریشن آفس سے رجوع ہوئے تو ہم کو بتایا گیا کہ آپ کا پلاٹ سیکشن 22 اے کے تحت ممنوعہ لسٹ میں ہے۔ ہم نے وہاں تفصیلات جاننے کی کوشش کی تاہم اس تعلق سے ہمیں کوئی تشفی بخش جواب نہیں ملا۔
آخر یہ سیکشن 22 اے کیا ہے۔ اگر کسی کے پلاٹ یا جائیداد کو سیکشن 22 اے کے تحت ممنوعہ فہرست میں شامل کیا جاتا ہے تو اس ممنوعہ فہرست سے پلاٹ یا جائیداد کو ہٹانے کے لئے کیا کرنا چاہئے۔ ؟
جواب : ریاست تلنگانہ میں ایسی کئی جائیدادیں ہیں۔ جن کو سیکشن 22 اے کے تحت ممنوعہ فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی بھی سروے نمبر میں کوئی جائیداد سرکاری ہے یا وقف کی ملکیت ہے یا انڈومنٹ یا ہندو اوقاف کی جائیداد ہے۔
یا اربن لینڈ یا سیلنگ لینڈ ہے تو اس طرح کی اراضیات کو اگر حکومت سرکاری لینڈ تصور کرتی ہے تو وہ سروے نمبر کے حصہ ہی نہیں بلکہ پورے سروے نمبر کو سیکشن 22 اے میں شامل کیا جا رہا ہے۔
اگر کوئی شہر میں کوئی ایک جائیداد کا حصہ سیکشن 22 اے کے تحت ممنوعہ فہرست میں شامل ہے تو اس پورے محلے، پورے شہر، پورے علاقہ کو سیکشن 22اے میں شامل کیا جا رہا ہے۔ سب سے پہلے تو ہم کو 22 اے سیکشن کیا ہے۔ اس بات کو سمجھنا ضروری ہے۔ سیکشن 22 اے ہم بار بار سنتے آرہے ہیں۔
دراصل یہ رجسٹریشن ایکٹ کا ایک سیکشن ہے۔ کسی بھی جائیداد کی خرید و فروخت کے لئے رجسٹریشن کس طرح ہونا چاہئے۔ کوئی بھی جائیداد کا قانونی طور پر مکمل رجسٹریشن کب ہوتا ہے۔ جائیداد کی دوسروں کے نام پر قانونی منتقلی کب عمل میں آتی ہے۔ ان تمام چیزوں کی وضاحت رجسٹریشن ایکٹ میں کی گئی ہے اور رجسٹریشن ایکٹ میں سیکشن 22 اے متعارف کیا گیا ہے۔
تلنگانہ میں رجسٹریشن ایکٹ 1908 کا سیکشن 22A ایک ایسا قانونی دفعہ ہے جو ریاست میں مخصوص جائیدادوں کی خرید و فروخت اور ان کے رجسٹریشن پر مکمل پابندی عائد کرتا ہے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد سرکاری اراضیات، مذہبی اداروں کی جائیدادوں اور عوامی مفاد کی زمینوں کو قبضہ جات اور غیر قانونی رجسٹریشن سے محفوظ رکھنا ہے۔ جب کوئی جائیداد اس سیکشن کے تحت ممنوعہ فہرست (Prohibited List) میں شامل کر دی جاتی ہے تو Sub-Registrar کو اس کے رجسٹریشن کرنے کا کوئی اختیار نہیں رہتا۔ اس فہرست میں ریاستی یا مرکزی حکومت کی ملکیتی اراضی، غریبوں کو تقسیم کردہ اسائنڈ زمینیں (Assigned Lands)، وقف بورڈ کی جائیدادیں اور مندروں یا مذہبی ٹرسٹ،ہندو اوقاف (Endowments) کے تحت آنے والی زمینیں شامل ہوتی ہیں۔
اس کے علاوہ جھیلوں اور تالابوں کے دائرے (FTL & Buffer Zones)، جنگلات کی اراضی اور بھودان تحریک کے تحت دی گئی زمینوں کو بھی اس سیکشن کے تحت خریدو فروخت سے روکا جاتا ہے۔ جن جائیدادوں پر عدالت العالیہ کا حکم التوا (Stay Order) ہو یا جن پر بینک کا بقایا ہو، انہیں بھی اس فہرست میں ڈالا جاتا ہے۔ اس کی ایک فہرست کلکٹر آفس میں موجود ہوتی ہے۔ ڈسٹرکٹ کلکٹر متعلقہ رجسٹریشن آفیسرس جنہیں ہمارے پاس سب رجسٹرار کہا جاتا ہے۔
ان کو یہ لسٹ روانہ کرتا ہے۔ اگر ممنوعہ زرعی اراضی ہے تو اس سلسلہ میں تفصیلات متعلقہ تحصیلدار اور سب رجسٹرار کو روانہ کی جاتی ہیں۔ شہری علاقوں میں سب رجسٹرار کو تفصیلات بھیجی جاتی ہیں۔ اس طرح رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ میں ایک ممنوعہ فہرست آن لائن پر ہوتی ہے اور اس فہرست میں سیکشن 22 اے کے تحت تمام ممنوعہ جائیدادوں کی تفصیلات درج ہوتی ہیں۔
اگر کوئی بھی جائیداد کی خرید و فروخت کا معاملہ آتا ہے تو پھر اس فہرست کے لحاظ سے جانچ کی جاتی ہے۔ آیا یہ جائیداد ممنوعہ لسٹ میں ہے یا نہیں۔ اگر ممنوعہ لسٹ میں جائیداد پائی جاتی ہے تو اس کے رجسٹریشن کو روک دیا جاتا ہے۔ کسی بھی قسم کی رجسٹریشن کی درخواست کو قبول نہیں کیا جاتا۔ البتہ ایسے کئی حقیقی مالکین جائیداد ہیں جن کی جائیدادوں کو غلط طریقہ سے سیکشن 22 اے میں شامل کر دیا گیا ہے۔
ایسے حقیقی مالکین جائیداد کے لئے تلنگانہ حکومت نے اب ایک ہیلپ لائن نمبر 18005994788 متعارف کیا ہے۔ اس نمبر پر کال کرتے ہوئے اگر کسی کی بھی جائیداد کو غلط طریقہ سے سیکشن 22 میں شامل کیا گیا ہے اور خرید و فروخت کی معاملت کو روکا جا رہا ہے تو شکایت کی جا سکتی ہے۔ یہ ٹول فری نمبر ہے۔ اس سلسلہ میں حکومت نے ایک کمیٹی بھی بنائی ہے اور ایسی شکایتوں کی جانچ کی جا رہی ہے۔
اگر کسی کی جائیداد غلط طریقہ سے سیکشن 22 اے میں شامل کی گئی ہے تو اس کمیٹی کو سیکشن 22 اے کی ممنوعہ فہرست سے نکال دینے کے اختیارات دیئے گئے ہیں لہٰذا اگر کسی کی جائیداد کو سیکشن 22 اے کے تحت ممنوعہ فہرست میں غلط طریقے سے شامل کیا گیا ہے تو اس ٹول فری نمبر پر کال کرتے ہوئے جو بھی قانونی رکاوٹیں ہیں۔ اسے دور کرنے کے لئے کوشش کی جا سکتی ہے۔