قومی

کانسٹیبل پر حملہ کے بعد زیرحراست قیدی گولی لگنے سے ہلاک، سی سی ٹی وی فوٹیج وائرل

یہ واقعہ ہفتہ کے روز دوپہر تقریباً 1:30 بجے پیش آیا۔ سنٹرل جیل ہوشیار پور سے تین زیرِ سماعت قیدیوں کو عدالتی پیشی سے قبل طبی معائنے کے لیے سول ہاسپٹل لایا گیا تھا۔ ان کی نگرانی کے لیے چار پولیس اہلکار تعینات تھے۔

ہوشیار پور : پنجاب کے ضلع ہوشیار پور میں ایک سنسنی خیز واقعے کے دوران زیرِ سماعت قیدی (Undertrial Prisoner) نصیب سنگھ پولیس حراست سے فرار ہونے کی کوشش میں گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملزم کو اسپتال سے واپس جیل منتقل کیا جا رہا تھا اور اس نے ڈیوٹی پر مامور سینئر کانسٹیبل جسدیپ سنگھ پر تیز دھار آلے سے حملہ کر دیا۔ اس ہنگامہ آرائی کی ڈرامائی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔

متعلقہ خبریں
پولیس کانسٹبل کو معشوقہ نے زندہ جلادیا
سب انسپکٹرس و کانسٹبلس کی بھرتی، اسناد کی جانچ
پولیس میں تقررات کیلئے 2 اپریل کو امتحان

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ ہفتہ کے روز دوپہر تقریباً 1:30 بجے پیش آیا۔ سنٹرل جیل ہوشیار پور سے تین زیرِ سماعت قیدیوں کو عدالتی پیشی سے قبل طبی معائنے کے لیے سول ہاسپٹل لایا گیا تھا۔ ان کی نگرانی کے لیے چار پولیس اہلکار تعینات تھے۔

طبی معائنہ مکمل ہونے کے بعد پولیس ٹیم قیدیوں کو ایک ای رکشہ (e-rickshaw) کے ذریعہ واپس جیل لے جا رہی تھی۔ حکام کے مطابق رکشہ کے اندر ہی ایک قیدی، جس کی شناخت نصیب سنگھ کے نام سے ہوئی، نے فرار ہونے کی کوشش کی جس سے صورتحال کشیدہ ہو گئی۔

وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سینئر کانسٹیبل جسدیپ سنگھ اور ملزم نصیب سنگھ ایک رسی کے ذریعے آپس میں بندھے ہوئے ہیں۔ رکشہ کے اندر شروع ہونے والی یہ جھڑپ سڑک پر آ گئی، جہاں دونوں زمین پر گر پڑے اور ان کے درمیان شدید ہاتھاپائی ہوئی۔

بندھے ہونے کے باوجود قیدی نے کانسٹیبل پر تیز دھار آلے سے پے در پے حملے کیے اور اسے مغلوب کرنے کی کوشش کی۔ یہ پورا منظر کسی ایکشن فلم کے اسکرپٹ جیسا نظر آ رہا تھا جسے وہاں موجود راہگیروں نے لائیو دیکھا۔

پولیس حکام کے مطابق، لڑائی کے دوران دمہ (Asthma) کے مریض کانسٹیبل جسدیپ سنگھ نے شدید زخمی ہونے کے باوجود ملزم کو فرار ہونے سے روکے رکھا۔ اس دوران ملزم نے کانسٹیبل کا سروس ریوالور چھیننے کی بھی کوشش کی۔

ہوشیار پور کے ایس ایس پی (SSP) سندیپ کمار ملک نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا:”پولیس اہلکار قیدی نصیب سنگھ کو لے جا رہا تھا کہ اس نے اچانک تیز دھار ہتھیار سے کانسٹیبل پر حملہ کر دیا۔ اس شدید ہاتھا پائی کے دوران سروس ریوالور سے گولیاں چل گئیں، جس کے نتیجے میں قیدی گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔”

زخمی قیدی کو فوری طور پر طبی امداد دی گئی تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ دوسری جانب زخمی کانسٹیبل کو بھی فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز ان کا علاج کر رہے ہیں۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق، ہلاک ہونے والا قیدی نصیب سنگھ ایک عادی مجرم تھا اور اس کے خلاف قتل، اقدامِ قتل اور این ڈی پی ایس (NDPS) ایکٹ کے تحت 7 سنگین مقدمات درج تھے۔ پولیس کا ماننا ہے کہ یہ حملہ حراست سے بھاگنے کی ایک کوشش تھی۔

سینئر پولیس افسران نے واقعے کی اعلیٰ سطح کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔