اردو صحافیوں کے ساتھ امتیازی سلوک ناقابل برداشت
اکریڈیٹیشن کارڈز کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے: ٹی یو ڈبلیو جے یو قائدین کا مشترکہ صحافتی بیان
*اکریڈیٹیشن کارڈز کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے: ٹی یو ڈبلیو جے یو قائدین کا مشترکہ صحافتی بیان
*چیف منسٹر،وزیر اطلاعات و نشریات سے اپیل*
محبوب نگر : ریاست تلنگانہ میں اکریڈیٹیشن کارڈز کی تقسیم کے عمل میں اردو صحافیوں کے ساتھ روا رکھے جا رہے مبینہ امتیازی اور معاندانہ رویہ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس یونین ( TUWJU ) کے ذمہ داران نے ریاستی حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
ریاستی نائب صدر ٹی یو ڈبلیو جے یو ممتاز سینئر صحافی الحاج محمد عبدالرافع ذکی قادری ڈسٹرکٹ اسٹاف رپورٹر روزنامہ منصف ، ریاستی سیکریٹری ٹی یو ڈبلیو جے یو اسدالعلماء تنویر صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی نے مشترکہ صحافتی بیان جاری کرتے ہوئے ریاستی وزیر اعلیٰ شری اے ریونت ریڈی ، وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شری پونگو لیٹی سرینواس ریڈی ، جی مُکنڈا ریڈی کمشنر اطلاعات و تعلقات عامہ اور متعلقہ حکام کی توجہ اس سنگین مسئلہ کی جانب مبذول کروائی۔
قائدین نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں اردو صحافت کی ایک شاندار اور تاریخی روایت رہی ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ اکریڈیٹیشن پالیسی کے نفاذ میں اردو صحافیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اردو اخبارات کے لئے سابقہ میں ہر ضلع میں محض 6 تا 7 اکریڈیٹیشن کارڈز مختص کئے جا رہے تھے اب اسکی تعداد گھٹاکر 3 کردی گئی ہے سابقہ کی طرح دیا جانا چاہیئے ، جبکہ تلگو زبان کے اخبارات اور میڈیا اداروں کو ایک ہی ضلع میں 25 تا 30 یا اس سے زائد کارڈز جاری کئے جا رہے ہیں ، جو سراسر نا انصافی اور مساوات کے اصولوں کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چالیس برسوں میں کبھی بھی اردو صحافیوں کے ساتھ اس نوعیت کا سوتیلا سلوک نہیں کیا گیا۔ اسمبلی حلقہ جات ، منڈل سطح کے نمائندوں اور فری لانس صحافیوں ، جو کئی دہائیوں سے اردو صحافت سے وابستہ ہیں ، کو مختلف سرکاری احکامات ( جی اوز ) اور تکنیکی اعتراضات کا بہانہ بنا کر اکریڈیٹیشن سے محروم کیا جا رہا ہے، جس سے صحافتی برادری میں شدید بے چینی وغصہ پایا جاتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے حالیہ اعلان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 21 ہزار اکریڈیٹیشن کارڈز کو 44 ہزار اکریڈیٹیشن کا اضافہ کرتے ہوئے کارڈز کی منظوری دی جا چکی ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو پھر اردو صحافیوں ، بالخصوص اسمبلی سطح ، منڈل سطح اور فری لانس جرنلسٹس کو اکریڈیٹیشن سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے؟ اس صورتحال سے یہ تأثر پیدا ہو رہا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار اور زمینی حقائق میں واضح تضاد موجود ہے ۔
صحافتی قائدین نے واضح کیا کہ اکریڈیٹیشن کارڈ محض ایک شناختی دستاویز نہیں بلکہ صحافیوں کی پیشہ ورانہ خدمات، رسائی اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے عمل میں ایک اہم ذریعہ اور سرکاری عہدیداروں کے رابطہ کا سنگ میل ہوتا ہے۔
اردو صحافی بھی ریاست کی تعمیر و ترقی ، عوامی مسائل کی نشاندہی اور حکومتی پالیسیوں کو عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، لہٰذا ان کے ساتھ امتیازی سلوک ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے ریاستی وزیراعلیٰ ، وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ اور کمشنر اطلاعات و تعلقات عامہ سے مطالبہ کیا کہ اکریڈیٹیشن کے عمل کا ازسرنو جائزہ لیا جائے ، اردو صحافیوں کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے اور تمام اضلاع ، اسمبلی حلقوں ، منڈل سطح کے نمائندوں اور تجربہ کار فری لانس صحافیوں کو بلاامتیاز اکریڈیٹیشن کارڈز جاری کئے جائیں۔
قائدین نے متنبہ کیا کہ اگر اردو صحافیوں کے ساتھ جاری نا انصافی کا فوری ازالہ نہ کیا گیا تو تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس یونین ریاست بھر میں جمہوری اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے بھرپور احتجاجی تحریک منظم کرنے پر مجبور ہوگی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ صحافت جمہوریت کا چوتھا ستون ہے اور کسی بھی زبان یا طبقے سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے ساتھ مساوی سلوک ہی ایک مضبوط اور شفاف جمہوری نظام کی ضمانت بن سکتا ہے۔
یہ خبر اخبارات میں اشاعت کے لیے موزوں انداز میں تیار کی گئی ہے اور اس میں اضافی پس منظر اور مؤثر صحافتی زبان شامل کی گئی ہے۔