حیدرآباد

وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات

حضرت پیر نقشبندی نے اس موقع پر وابستگان سلسلہ افتخاریہ سے خطاب کر تے ہوئے خانوادہ افتخاریہ کے اس تاریخی پس منظر کو بیان کر تے ہوئے فرمایا کہ آج سے تقریبا 350سال قبل سر زمین مدینہ منورہ سے آل نبی اولاد علی ؑ حضرت سید محمد عرب مدنی ؒ اپنے اہل خاندان اور چند رفقاء کے ساتھ مدینہ سے ہجرت فرماکر ہندوستان اور پھر حیدرآباد دکن تشریف لائے

حیدرآباد : وارث سرکار وطنؒ حضرت پیر سید شبیر نقشبندی افتخاری سے کل بعد نماز ظہرکلم شریف مہاراشٹرا سے مولانا ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری سجادہ نشین درگاہ حمیدی شاہ ؒ کی قیادت میں سلسلہ افتخاریہ کے مریدین کا ایک 25رکنی وفد نے ملاقات کی سعادت حاصل کی۔ اس موقع پر حضرت پیر نقشبندی نے تمام اہل طریقت کو آج 18ذی الحجہ 4جون 2026کی عید غدیر جشن ولایت مطلقہ مولائے کائنات کی دلی بارکباد دی۔

متعلقہ خبریں
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
چار مینار زون کے پرائمری و ہائی اسکولس کے طلباء میں تقسیم کے لیے نصابی کتب صدور مدارس کے حوالے
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات

حضرت پیر نقشبندی نے اس موقع پر وابستگان سلسلہ افتخاریہ سے خطاب کر تے ہوئے خانوادہ افتخاریہ کے اس تاریخی پس منظر کو بیان کر تے ہوئے فرمایا کہ آج سے تقریبا 350سال قبل سر زمین مدینہ منورہ سے آل نبی اولاد علی ؑ حضرت سید محمد عرب مدنی ؒ اپنے اہل خاندان اور چند رفقاء کے ساتھ مدینہ سے ہجرت فرماکر ہندوستان اور پھر حیدرآباد دکن تشریف لائے اور اس وقت نواب آصف الدولہ دکن کے حکمراں تھے۔ جب ان کو معلوم ہوا کہ گولکنڈہ میں مدینہ منورہ سے ایک آل نبیﷺ کا قافلہ آیا اور سکونت اختیار کیا ہے تب بادشاہ وقت نے ایک پانچ رکنی اپنی مملکت کے وفد کو مدینہ روانہ کیا اس بات کی تصدیق کیلئے آنے والے بزرگ کا حسب نصب معلوم کر کے رپورٹ پیش کر نے کا حکم دیا۔ چنانچہ وہ پانچ رکنی وفد مدینہ منورہ پہنچااور وہاں کے محکمہ امور مذہبی سے ربط پیدا کیا اور جب وہاں پر شجرہ دیکھ کر محکمہ امور مذہبی حکومت مملکت سعودی عربیہ نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ ہاں حضرت سید محمد عرب مدنی قبلہ ؒ مدینہ منورہ کے اور سرکار رسول پاک ؑ کی آل سے ہیں۔ تب وہ واپس آئے اور بادشاہ وقت کو رپورٹ پیش کی پھر بادشاہ آصف الدولہ خود حضرت سید محمد عرب مدنی ؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پھر قدم بوسی کا شرف حاصل ہوا۔

 اس طرح مدینہ کی وادی سے دکن کی سر زمین پر خانوادہ افتخاریہ کی بنیاد پڑی اور آپ کے صاحبزادے حضرت سید محمد کاظم علی شاہ صاحب قبلہؒ حیدرآباد میں ولادت پائی اور پھر حضرت کاظم علی شاہ صاحب قبلہ ؒ کے گھر میں حضرت سید نا معین اللہ حسینی شاہ قبلہ ؒ کی پیدائش ہو ئی اور پھر حضرت معین اللہ حسین صاحب قبلہ کے گھر میں چراغ چشتیا ں روشن ہوئی اورسلسلہ عالیہ افتخاریہ کے جانشین بن کر حضرت سید محمد ولی اللہ حسینی شاہ قبلہ المعروف حضرت پیر چشتی ؒ کی ولادت ہوئی اور آپ جانشین سرکار وطنؒ کی حیثیت سے سلسلہ افتخاریہ کی دنیا بھر میں اشاعت اور تبلیغ اور سرکار وطنؒ کے پیام تصوف کو پہنچانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔

 حضرت پیر چشتی نے اپنی زندگی کو دنیا کے بالخصوص ہندوستان کے بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظردو حصوں میں تقسیم کیا۔ ادھر اللہ سے واصل ودھر مخلوق میں شامل چنانچہ آپ نے 1935میں کل ہند انجمن پیشویان مذاہب کی یبنیاد رکھی اور تمام مذاہب کو لے کر بہت اہم سیاسی طور پر سماجی طور پرادا فرایا اور دوسری جانب پیر طریقت سجادہ نشین سرکار وطن ؒ کی حیثیت سے مریدین کو تشنگان حق کو راہ سلوک طئے فرمائی اور پھر سنہ1971ئ4ذی الحجہ کو 71سال کی عمر شریف میں اس دنیا ئے فانی سے رخصت ہوئے اور آپ اپنی زندگی میں ہی اپنے چھ صاحبزادوں کو سرکار وطنؒ کی بارگاہ چشتی چمن کی مسجد خانقاہ اورتمام وہاں کے مسائل کے حل کیلئے اپنے ہی حیات چراغوں کی محفل جشن معراج النبی ﷺ26رجب کو چھ صاحبزادوں کو خلافت اور اجازت مریدی سے سرفراز فرمایا اور حکم اور وصیت فرمائی کہ چھ برادران اپنے ایک مشترکہ تولیتی کمیٹی بناکر اس عظیم چشتی چمن کی خدمت کو جاری رکھیں ۔

 آپ کے پردہ فرمانے کے بعد مگر وقت بدلتا گیا بعض مفاد پرست نے چشتی چمن کی یکجہتی اور اتحاد کو حسد کے ذریعہ نظر لگ گئی اور کچھ گمراہی پیدا ہوگئی۔ مگر الحمد للہ آج بھی چشتی چمن کی آن و شان کی بحالی ، تباہی اور بربادی کے صد باب کیلئے اللہ تعالیٰ وارث سرکار طنؒخادم القرآن شبیر نقشبندی افتخاری جو اس واقت خانوادہ افتخاریہ کے سرپرست اعلیٰ بھی ہے اور سلسلہ افتخاریہ و سرکار طنؒ کی نسبت سے رہنمائی کا بھی فرض ادا کر رہا ہے۔ انشاء اللہ اگر حیات وفا کرے تو یہ چشتی چمن کی پھر نشاط ثانیہ ہوگی۔

 آخر میں حضرت پیر نقشبندی نے رخت انگیر دعا کی بالخصوص سلسلہ افتخاریہ کے روح رواں مولانا ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری سجادہ نشین درگاہ حضرت حمیدی شاہ کلم شریف کو دعائوں سے نوازا اور سلسلہ افتخاریہ کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے انہیں اللہ نے خدمت کا موقع دیا ہے اس میں اور ہمت اور طاقت کیلئے دعا کی۔تمام حاضرین نے عید غدیر کی مناسبت سے نعرہ حیدری یا علی نعرہ حیدری یا علی ؑ کے نعرہ گونج اٹھے ۔ محفل پر ایک روحانی کیفیت طاری ہو گئی ۔ لوگوں نے جب اس کیفیت کو دیکھا تو آنکھیں اشکبار ہوگئی اور یہ یادگار ملاقات اختتام کو پہنچی۔