مشرق وسطیٰ

وقوفِ عرفہ کا منظر دنیا کے کسی بھی خطے میں نظر نہ آنے والا ایک منفرد روحانی منظر

بزمِ طلبائے قدیم و محبانِ جامعہ نظامیہ، جدہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ 33ویں سالانہ جلسۂ استقبالِ حجاجِ کرام کا انعقاد

بزمِ طلبائے قدیم و محبانِ جامعہ نظامیہ، جدہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ 33ویں سالانہ جلسۂ استقبالِ حجاجِ کرام کا انعقاد

جدہ :  وقوفِ عرفہ کا منظر دنیا کے کسی بھی خطے میں نظر نہ آنے والا ایک منفرد روحانی منظر ہے، جہاں ہر رنگ، نسل، زبان اور قوم سے تعلق رکھنے والے مسلمان، کلمۂ طیبہ ’’لا إلہ إلا الله محمد رسول الله‘‘ کا ورد کرتے ہوئے ایک ہی میدان میں اپنے ربِّ کریم کے حضور عاجزی، انکساری اور اشک باری کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور اس کی بارگاہ میں دعائیں مانگتاہے۔

متعلقہ خبریں
مدرسہ انوارسیفی میں سالانہ جلسہ تقسیم اسناد عطائے خلعت و دستاربندی
اردو اکیڈمی جدہ کی جانب سے قونصل خانہ ہند جدہ میں 24 واں یوم قومی تعلیم کے موقع پر فَقِیدُ المِثَال جلسہ
حج کمیٹی کو عازمین حج کی 11 ہزار سے زائد درخواستیں موصول، عنقریب ڈرا کی تاریخ کا اعلان
جامعہ نظامیہ میں درس بخاری شریف سے مولانا مفتی خلیل احمد ، مولانا ڈاکٹر محمد سیف اللہ اوردیگر علماء کا خطاب
حیدرآباد: شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ کے 110 ویں عرس مبارک کے موقع پر جلسہ تقسیم اسناد کا انعقاد

ان خیالات کا اظہار مولانا ڈاکٹر سید رضوان پاشاہ قادری لااُبالی، بانی دی قرآن اکیڈمی حیدرآباد نے بزمِ طلبائے قدیم و محبانِ جامعہ نظامیہ، جدہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ 33ویں سالانہ جلسۂ استقبالِ حجاجِ کرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ تقریب دربار ہال، شاداب ریسٹورنٹ، عزیزیہ، جدہ میں منعقد ہوئی۔جلسہ کی صدارت مولانا حافظ محمد عبدالسلام نقشبندی سرپرستِ بزم نے کی جبکہ مولانا حافظ محمد نظام الدین غوری صوفی قادری کامل جامعہ نظامیہ و صدرِ بزم نے نگرانی کی۔

اس موقع پر مولانا حامد بن محمد قریشی نائب شیخ الادب جامعہ نظامیہ، مولانا ڈاکٹر سید شاہ عبدالمعز قادری شرفی جانشین حضرت جمیل الدین شرفیؒ شرفی چمن، مولانا حامد حسین حسّان فاروقی امیر سنی دعوتِ اسلامی تلنگانہ، مولانا ڈاکٹر محمد علی شاہ نوری عارفی، مولانا محمد مختار احمد الجنیدی اور مولانا عبدالجواد قادری (کاملین جامعہ نظامیہ) نے بطور مہمانانِ خصوصی شرکت کی۔

 جبکہ مولانا محمد نصیر الدین سابق صدر بزم، مولانا حافظ سید قادر محی الدین قادری الموسوی الجیلانی (مجتبیٰ پاشاہ) اور مولانا سید بدرالدین قادری الجیلانی (امین پاشاہ) مہمانانِ اعزازی میں شامل تھے۔جلسہ کا آغاز حافظ و قاری محمد فیضان کی تلاوتِ کلامِ پاک اور محمد عرفان احمد قادری و محمد یاسر قادری کی نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا۔ بعد ازاں مولانا شاہ محمد جلیل الدین قادری بدری نائب صدر استقبالِ حجاج کمیٹی بزم نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا۔

 مولانا حامد بن محمد قریشی نے اپنے خطاب میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ جس بندے کو جتنی مرتبہ ندائے ابراہیمی پر لبیک کہنے کی توفیق عطا فرماتا ہے، اسے اتنی ہی مرتبہ حج کی سعادت نصیب ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ احادیثِ مبارکہ میں ایسے دور کا بھی ذکر ملتا ہے جب بعض لوگ حج کو تجارت یا نمود و نمائش کا ذریعہ بنائیں گے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے حج کی فرضیت کے ساتھ ’’لِلّٰہ‘‘ کی قید لگائی تاکہ یہ عبادت خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ادا کی جائے۔

مولانا ڈاکٹر سید شاہ عبدالمعز قادری شرفی نے کہا کہ حجاجِ کرام کا استقبال ایک قابلِ تحسین اور مبارک عمل ہے اور گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصہ سے اس کا تسلسل اس عمل کی مقبولیت کی واضح دلیل ہے۔ انہوں نے جامعہ نظامیہ کی دینی، علمی اور تہذیبی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ ہمارے عقائد، زبان اور تہذیب کی حفاظت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔مولانا حامد حسین حسّان فاروقی نے حضرت ایوب علیہ السلام کی پیروں کی رگڑ سے نکلے پانی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واقعہ کے حوالے سے آبِ زمزم کی فضیلت بیان کرتے ہوئے زمزم کے روحانی اور تاریخی پس منظر پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

مولانا سید مجتبیٰ پاشاہ قادری نے کہا کہ سوشل میڈیا صرف منفی استعمال کا ذریعہ نہیں بلکہ اگر اسے صحیح انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ دین و دنیا کی مفید معلومات پہنچانے کا بہترین وسیلہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے علما و مشائخ کو اپنی دینی سرگرمیوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچانے کی تلقین کی۔مولانا محمد مختار احمد الجنیدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جس شخص کو مالی اور جسمانی استطاعت حاصل ہو، اسے حج کی ادائیگی میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ حج کے لیے مالی استطاعت کے ساتھ جسمانی قوت بھی ضروری ہے۔

مولانا ڈاکٹر محمد علی نوری عارفی نے قرآنِ کریم کی آیت کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ حضور اکرم ﷺ پوری انسانیت کے لیے بہترین نمونۂ عمل ہیں اور دینِ اسلام کی تمام تعلیمات ہمیں آپ ﷺ کی کامل اتباع کی دعوت دیتی ہیں۔مولانا عبدالجواد قادری نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر سب سے بڑا اور بلند ہے، اور حج کے تمام ارکان میں اس کی جھلک نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے، جہاں ہر طرف لبیک اور ذکرِ الٰہی کی صدائیں گونجتی رہتی ہیں۔

اس موقع پر شریک حجاجِ کرام میں حضرت سید شاہ عرفان الدین شرفی القادری، مولانا حافظ سید مزمل احمد قادری، حافظ محمد عظیم الدین نعمانی، جناب سید خواجہ جلال الدین عاصم صابری، حافظ شیخ شفیع الدین شرفی نعمانی، جناب عرفان قادری،جناب  رضوان قادری،جناب  فراز اعجاز احمد خان، ڈاکٹر محمد عبدالرشید قادری،محترم محمد عبدالقادر قادری،جناب  عبید الرحمن،جناب  سید ارشد غوری اورجناب  محمد محبوب خان سمیت دیگر حضرات قابلِ ذکر ہیں۔تمام حجاجِ کرام کو مولانا حافظ محمد عبدالسلام نقشبندی اور مولانا حافظ محمد نظام الدین غوری کے ہاتھوں یادگار مومنٹو اور رومال پیش کیے گئے۔

استقبالِ حجاج کمیٹی بزم کے ذمہ داران اعجاز احمد خان (صدر)، مولانا جلیل قادری (نائب صدر)، سرفراز خان (معتمد) اور دیگر اراکین کے خصوصی تعاون سے پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔محترم سید احتشام علی خان (نائب معتمداستقبالِ حجاج کمیٹی) کی نگرانی میں محمد وسیم، محمد جعفر، حافظ محمد ذیشان علی، حافظ محمد زیبر، محمد نظیف عفاف، حافظ محمد فیضان، حافظ سید عمر، حافظ محمد مجتبیٰ، محمد اعظم الدین انصاری، شاہ محمد شرف الدین شرفی، محمد عاصم ادریس‘ محمد عبدالخالق اور محمد عظیم نے انتظامات میں بھرپور حصہ لیا۔ تقریب کی خصوصی لائیو کوریج جناب شیخ علیم اے کے نیوز کی ٹیم نے انجام دی۔اس موقع پر جدہ کی مختلف دینی، سماجی اور رفاہی تنظیموں کے ذمہ داران، جن میں حافظ سید درویش محی الدین قادری، سید افضل الدین نقشبندی،محترم شمیم کوثر، محترم فاروق احمد،جناب عمران کوثر، محترم غلام یٰسین، محترم محمد اقبال اورمحترم محمد یوسف وحید اور سامعین کی بڑی تعداد موجود تھی۔