کرناٹک

شادی ملتوی ہونے پر مشتعل ہندو نوجوان نے اپنی نابالغ منگیتر کا سر قلم کردیا

پرکاش نے اپنی 16 سالہ منگیتر مینا کو مارا پیٹا اور مبینہ طور پر اس کا سرقلم کردیا۔ ملزم اپنے ساتھ کٹا ہوا سر لے کر فرار ہوگیا۔ پولیس نے اطلاع ملنے پر پرکاش کی تلاش شروع کردی۔

نئی دہلی: کرناٹک میں ایک شخص نے مبینہ طور پر نابالغ منگیتر کا سر قلم کردیا۔ میڈیا کے مطابق کرناٹک پولیس نے دلہن کی عمر 16 سال ہونے کی وجہ سے مداخلت کر کے شادی کی ایک تقریب رکوا دی اور افراد خاندان سے کہا کہ دو سال بعد جب بچی 18 سال کی ہو جائے تو شادی کی جائے۔

متعلقہ خبریں
حضرت شیخ شاہ افضل الدین جنیدی سراج باباامیرکبیرالسادۃ الجنیدیہ الحسینیہ(فی الھند) مقرر
ہبالی فساد کیس واپس لینے کی مدافعت: وزیر داخلہ کرناٹک
کمیشن نے چامراج نگر سیٹ پر دیا دوبارہ پولنگ کا حکم
کرناٹک قانون ساز کونسل میں متنازعہ مندر ٹیکس بل کو شکست
بین مذہبی جوڑے کو مارپیٹ،7 افراد گرفتار

جس پر لڑکی کے افراد خاندان نے شادی کی تقریب ملتوی کردی۔ جب شادی کے ملتوی ہونے کی اطلاع دلہے پرکاش کو پہنچی تو وہ مشتعل ہوگیا اور سسرال پہنچ کر ہنگامہ آرائی کی۔

پرکاش نے اپنی 16 سالہ منگیتر مینا کو مارا پیٹا اور مبینہ طور پر اس کا سرقلم کردیا۔ ملزم اپنے ساتھ کٹا ہوا سر لے کر فرار ہوگیا۔ پولیس نے اطلاع ملنے پر پرکاش کی تلاش شروع کردی۔

پولیس نے پرکاش کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 307 (قتل کی کوشش) اور 302 (قتل) اور جنسی جرائم کے خلاف بچوں کے تحفظ کے قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔