سوشیل میڈیاقومی

ہاسپٹل میں بزرگ خاتون کو اسٹریچر نہ ملا، افراد خاندان نے چادر میں اٹھا کر وارڈ پہنچایا

افراد کا الزام ہے کہ مریضہ کو دوسرے وارڈ منتقل کرنے کے لیے نہ تو اسٹریچر فراہم کیا گیا اور نہ ہی کسی وارڈ بوائے کی مدد دی گئی۔ کافی دیر انتظار کے باوجود کوئی انتظام نہ ہونے پر گھر والوں نے ایک چادر کو سہارا بنا کر بزرگ خاتون کو اٹھایا اور میڈیکل وارڈ تک لے گئے۔

بھوپال: مدھیہ پردیش کے ضلع بھنڈ کے سرکاری ضلع اسپتال سے ایک ایسا ویڈیو منظرِ عام پر آیا ہے جس نے سرکاری صحت نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ الزام ہے کہ 72 سالہ بزرگ خاتون کو اسپتال میں اسٹریچر فراہم نہیں کیا گیا، جس کے باعث افراد خاندان نے انہیں چادر میں اٹھا کر ایک وارڈ سے دوسرے وارڈ منتقل کیا۔ اس واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق، راؤن پولیس اسٹیشن حدود کے مڑھی جیت پورہ گاؤں کی رہنے والی ویٹولی دیوی (72 سال) کی طبیعت اچانک بگڑنے پر افراد انہیں علاج کے لیے بھنڈ ضلع اسپتال لے گئے۔ ابتدائی طور پر ایمرجنسی میں موجود ڈاکٹر نے انہیں سرجیکل وارڈ میں داخل کیا، تاہم بعد میں معائنہ کرنے والے ڈاکٹر نے انہیں میڈیکل وارڈ منتقل کرنے کی ہدایت دی۔

https://ndtv.in/shorts/bhind-hospital-viral-video-mp-health-system-government-hospital-negligence-stretcher-issue-1130380

افراد کا الزام ہے کہ مریضہ کو دوسرے وارڈ منتقل کرنے کے لیے نہ تو اسٹریچر فراہم کیا گیا اور نہ ہی کسی وارڈ بوائے کی مدد دی گئی۔ کافی دیر انتظار کے باوجود کوئی انتظام نہ ہونے پر گھر والوں نے ایک چادر کو سہارا بنا کر بزرگ خاتون کو اٹھایا اور میڈیکل وارڈ تک لے گئے۔ اس دوران وہاں موجود کسی شخص نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کر دی، جو اب بڑے پیمانے پر وائرل ہو رہی ہے۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد عوام نے مدھیہ پردیش کی سرکاری صحت خدمات پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اگر ضلع اسپتال میں ایک بزرگ مریضہ کو اسٹریچر جیسی بنیادی سہولت بھی میسر نہیں آتی تو بہتر طبی سہولیات کے دعوے سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔

دوسری جانب ضلع اسپتال کے سول سرجن ڈاکٹر آر کے مشرا نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق تمام وارڈوں کے باہر اسٹریچر موجود رہتے ہیں اور کچھ عناصر جان بوجھ کر اسپتال کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر آر کے مشرا نے کہا کہ پورے معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی، اور اگر کسی ملازم کی غفلت ثابت ہوئی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔