شمالی بھارت
ٹرینڈنگ

تاریخی کابل ہاؤز دہرہ دون سے 17 خاندانوں کی بے دخلی

کابل ہاؤز میں کئی دہوں سے رہنے والے 17 خاندانوں کو بے دخل کرنے کا عمل عدالت کے حکم پر جمعرات کے دن شروع ہوا۔

دہرہ دون: کابل ہاؤز میں کئی دہوں سے رہنے والے 17 خاندانوں کو بے دخل کرنے کا عمل عدالت کے حکم پر جمعرات کے دن شروع ہوا۔

متعلقہ خبریں
اتراکھنڈ کے گاؤں میں آگ لگنے سے 14 گھر جل کر خاکستر، 6 افراد جھلسے
ہلدوانی میں صورتحال معمول پرنیم فوجی فورسس کی مزید کمپنیاں تعینات
ہلدوانی تشدد کی مجسٹرئیل تحقیقات کا حکم۔ 6 کروڑ کا نقصان
ہجوم نے پولیس ملازمین کو زندہ جلانے کی کوشش کی
کثرت ازدواج، کمسنی کی شادی پر مکمل امتناع کی سفارش

اس عمارت میں افغانستان کے جلاوطن شاہ محمد یعقوب خان نے 1879 سے اپنے انتقال 1923 تک قیام کیا تھا۔

دہرہ دون کی ای سی روڈ پر واقع تاریخی عمارت جو 19 بیگھہ زمین پر محیط ہے اور اس کی لاگت 400کروڑ روپے ہے‘ ملک کے بٹوارہ کے بعد دشمن کی جائیداد قراردے دی گئی تھی کیونکہ افغان شاہ کے ورثا پاکستان ہجرت کرگئے تھے۔

ضلع انتظامیہ اور تاریخی عمارت میں رہنے والے کنبوں کی 40 سال طویل قانونی لڑائی کے بعد بے دخلی کا عمل شروع ہوا۔

سٹی مجسٹریٹ پرتیوش سنگھ نے بتایا کہ ضلع عدالت کے حکم پر بے دخلی شروع ہوئی اور 17 خاندانوں کو عمارت خالی کردینے کے لئے پیشگی نوٹس دی گئی تاہم 17 خاندانوں کا دعویٰ ہے کہ اندرون 2ہفتے عمارت خالی کردینے کی عدالت کی نوٹس انہیں تاخیر سے ملی اور ان کے پاس وقت نہیں رہا۔

جمعرات کے دن جب پولیس فورس انہیں نکال باہر کرنے کے لئے پہنچی تو وہ ہکابکا رہ گئے۔ کابل ہاؤز میں رہنے والی بینا کماری نے کہا کہ پولیس والے عمارت سے ہمارا سامان نکالنے لگے اور عمارت کو مہربند کرنے لگے۔ اچانک کارروائی سے بچوں اور بزرگوں کو بڑی تکلیف پہنچی۔ کابل ہاؤز شہر کے قلب میں واقع ہے۔

2 ہفتوں کی نوٹس 17 اکتوبر کو جاری ہوئی لیکن ہمیں پوجا کی تعطیلات کے دوران 25 اکتوبر کو دی گئی۔ عمارت چھوڑکر جانا ہمارے لئے مشکل تھا۔

بعض کنبے 2 ہفتوں کی ڈیڈلائن میں یکم دسمبر تک توسیع کے لئے اترکھنڈ ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ہائی کورٹ نے انہیں مہلت دی ہے۔ ہائی کورٹ کے احکام کے بارے میں پوچھنے پر سٹی مجسٹریٹ نے کہا کہ ہمیں ابھی تک کوئی آرڈر نہیں ملا۔

a3w
a3w