کمال مولیٰ مسجد معاملہ، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، مسلم فریق کو متصل اراضی پر جمعہ کی نماز کی اجازت دینے کی ہدایت
سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر ہندو اور مسلم دونوں فریق باہمی رضامندی سے کسی دوسرے متبادل مقام پر اتفاق کر لیتے ہیں تو اس کی بھی مکمل گنجائش موجود ہے۔
نئی دہلی: مدھیہ پردیش کے انتہائی حساس اور طویل عرصے سے زیرِ سماعت بھوج شالہ تنازع میں سپریم کورٹ نے ایک اہم عبوری حکم جاری کیا ہے۔
چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جویمالیا باغچی اور جسٹس وی موہن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے مدھیہ پردیش حکومت کو ہدایت دی ہے کہ مسلم فریق کو جمعہ کی نماز کے لیے متنازعہ بھوچشالہ احاطے سے متصل خسرہ نمبر 596، جسے ریکارڈ میں درگاہ کی زمین کے طور پر درج کیا گیا ہے، پر دوپہر ایک بجے سے تین بجے تک نماز ادا کرنے کی سہولت فراہم کی جائے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ مقام متنازعہ احاطے کے بالکل قریب واقع ہے اور بظاہر نماز کی ادائیگی کے لیے موزوں دکھائی دیتا ہے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر ہندو اور مسلم دونوں فریق باہمی رضامندی سے کسی دوسرے متبادل مقام پر اتفاق کر لیتے ہیں تو اس کی بھی مکمل گنجائش موجود ہے۔
سماعت کے دوران مسلم فریق کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے سابقہ عبوری احکامات کے باوجود مقامی انتظامیہ نماز کے لیے تقریباً 1.3 کلومیٹر دور جگہ فراہم کر رہی تھی، جو ان کے مطابق عملی طور پر مناسب نہیں تھی۔
انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ نماز کے لیے ایسی متبادل جگہ مقرر کی جائے جہاں سے مسجد واضح طور پر نظر آئے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے خسرہ نمبر 596، یعنی درگاہ کی زمین کو جمعہ کی نماز کے لیے مختص کرنے کی اپیل کی۔
دوسری جانب مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ریاست کا مقصد کسی ایک فریق کی حمایت کرنا نہیں بلکہ صرف امن و امان برقرار رکھنا اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔
سماعت کے دوران مسلم فریق نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگرچہ انہوں نے اپنے حامیوں کو میڈیا میں بیان بازی سے روکا ہے، تاہم دوسرے فریق کی جانب سے مسلسل ایسے بیانات دیے جا رہے ہیں جن میں نماز ادا نہ کرنے دینے کی بات کہی جا رہی ہے۔
یہ معاملہ اب بھی سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، اور آئندہ سماعتوں میں اس تنازع سے متعلق دیگر قانونی نکات پر بھی غور کیا جائے گا۔