فرانس نے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرنے والے بل کی منظوری دی
صدر ایمانوئل میکخواں نے 'ایکس' پر لکھا، "میں نے اس کا وعدہ کیا تھا اور اس معاملے پر ووٹنگ بھی ہوئی ہے: نئے تعلیمی سال کے آغاز سے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل نیٹ ورکس پر پابندی ہوگی۔ اراکینِ پارلیمنٹ کا شکریہ۔"
پیرس: فرانس کی پارلیمنٹ نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگانے والے بل کی منظوری دے دی ہے۔
‘بی ایف ایم ٹی وی’ برادکاسٹر نے یہ معلومات دی ہے۔ یہ بل یکم ستمبر سے نافذ العمل ہوگا۔
بی ایف ایم ٹی وی نے منگل کی رات بتایا کہ بل کے حق میں 279 ووٹ پڑے جبکہ 81 اراکینِ پارلیمنٹ نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نئے قانون کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو صارفین کی عمر کی تصدیق کرنی ہوگی اور 15 سال سے کم عمر بچوں کو اس کے استعمال سے روکنا ہوگا۔
صدر ایمانوئل میکخواں نے ‘ایکس’ پر لکھا، "میں نے اس کا وعدہ کیا تھا اور اس معاملے پر ووٹنگ بھی ہوئی ہے: نئے تعلیمی سال کے آغاز سے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل نیٹ ورکس پر پابندی ہوگی۔ اراکینِ پارلیمنٹ کا شکریہ۔”
حالیہ دنوں میں کئی ممالک نے نوجوان نسل پر سوشل میڈیا کے اثرکو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔
آسٹریلیا نے 10 دسمبر 2025 سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے استعمال پر روک لگا دی ہے اور دیگر بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے بھی ایسی ہی پابندیاں نافذ ہونے والی ہیں۔ ڈنمارک، اسپین، یونان، ترکیہ، جنوبی کوریا اور برطانیہ نے بھی اسی طرح کے اقدامات کی منصوبہ بندی کا اعلان کیا ہے۔