جوہری تنصیبات پر حملہ ہوا تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا: ایران
ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹر نے یہ بات کہی ہے۔ کمانڈ نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا، "ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ اگر حملہ آور فوج اس حد تک آگے بڑھتی ہے، تو ہم اسے خطے میں جنگ کو مزید بڑھانے والا قدم مانیں گے اور خطے میں موجود تمام امریکی اور اتحادی مفادات کو ہماری فوج کے شدید اور زبردست حملے کا نشانہ بنایا جائے گا۔"
تہران: ایران کی جوہری تنصیبات پر اگر امریکہ حملہ کرتا ہے تو وہ خطے میں موجود امریکی اور اس کے اتحادی ممالک کے ‘مفادات’ پر حملہ کرے گا۔
ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹر نے یہ بات کہی ہے۔ کمانڈ نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا، "ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ اگر حملہ آور فوج اس حد تک آگے بڑھتی ہے، تو ہم اسے خطے میں جنگ کو مزید بڑھانے والا قدم مانیں گے اور خطے میں موجود تمام امریکی اور اتحادی مفادات کو ہماری فوج کے شدید اور زبردست حملے کا نشانہ بنایا جائے گا۔”
اس سے قبل ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا تھا کہ فوج کو نیا فضائی دفاعی نظام مل گیا ہے۔ ‘ارنا’ نیوز ایجنسی کے مطابق، اکرمینیا نے کہا، "اس نئے فضائی دفاعی نظام نے ہماری دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ اب ہم دشمن کے طیاروں کا مقابلہ کرنے میں کہیں زیادہ اہل ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ کشیدگی کے دوران تباہ ہوئے فضائی دفاعی نظام کی مرمت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
امریکی فوج نے گزشتہ 8 جولائی سے ایران پر متعدد بار حملے کیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے خلاف ایران کی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے تھے۔ جبکہ ایرانی فوج نے کئی مشرق وسطیٰ کے ممالک میں امریکی ٹھکانوں پر حملے کر کے اس کا جواب دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ 9 جولائی کو کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اب نافذ العمل نہیں ہے۔