قانونی مشاورتی کالمقومی

چیک باؤنس ہونے پر قانونی کارروائی کب اور کیسے کی جائے؟

مجھ کو ایک صاحب نے چیک دیا ہے۔ چیک پر جو تاریخ تحریر کی گئی ہے۔ اس میں کچھ غلطیاں ہیں اور میں جب چیک لے کر بینک سے رجوع ہوا تو بینک کے عہدہ داروں نے اس چیک کو ریٹرن کر دیا ۔ جس شخص نے مجھ کو چیک دیا ہے کیا میں ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کر سکتا ہوں۔

سوال: مجھ کو ایک صاحب نے چیک دیا ہے۔ چیک پر جو تاریخ تحریر کی گئی ہے۔ اس میں کچھ غلطیاں ہیں اور میں جب چیک لے کر بینک سے رجوع ہوا تو بینک کے عہدہ داروں نے اس چیک کو ریٹرن کر دیا ۔ جس شخص نے مجھ کو چیک دیا ہے کیا میں ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کر سکتا ہوں۔

اس کے علاوہ اگر اکاؤنٹ میں پیسے نہ ہونے کی بنیاد پر اگر چیک رد ہو جاتا ہے یا ریٹرن کردیا جاتا ہے تو میرے پیسے واپس حاصل کرنے کے لئے کیا قانونی گنجائش رہ جاتی ہے۔

اپنے پیسے واپس حاصل کرنے کے لئے مجھے کیا طریقہ کار اختیار کرنا چاہئے۔ اس سلسلہ میں تفصیل سے جواب دیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔ میں مختلف افراد سے اس تعلق سے مشورہ کر رہا ہوں اور مجھے مختلف مشورے موصول ہو رہے ہیں۔ اس معاملہ میں آپ سے رہنمائی کی درخواست ہے۔

جواب: ریزرو بینک آف انڈیا کے رہنمایانہ خطوط یا گائیڈ لائنس کے مطابق ایک چیک کی ویلیڈٹی تین ماہ ہوتی ہے۔ جس تاریخ کو چیک جاری کیا گیا ہے یا جس تاریخ کو چیک دیا گیا ہے چیک پر جو تاریخ درج ہوتی ہے۔ وہ تاریخ سے تین مہینہ تک کیش کرانے کے لئے وہ چیک والڈ Valid رہتا ہےاگر چیک پر درج تاریخ سے تین مہینے گزر جاتے ہیں تو پھر وہ چیک کوئی کام کا نہیں ہوتا ہے۔

ہاں اگر چیک پر درج تاریخ میں کوئی غلطی ہے تو اس میں ترمیم کرواتے ہوئے جو چیک دیئے ہیں۔ ان کی دستخط لی جا سکتی ہے تاہم نیا چیک لینا ہی بہتر رہے گا۔ ڈیمانڈ ڈرافٹ و دیگر معاملات میں بھی ایسے ہی رول یا اصول و ضوابط نافذ ہیں۔

اگر کسی نے آپ کو چیک دیا ہے اور چیک دینے والے کے اکاؤنٹ میں پیسے نہ ہونے کی بنیاد پر اگر چیک ریٹرن ہو جاتا ہے جس کو قانونی زبان میں ’’ ڈز آنر آف دی چیک‘‘ کہتے ہیں تو ایسے حالات میں آپ چیک دینے والے کے خلاف ضرور قانونی چارہ جوئی کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلے تو آپ کو کرنا یہ ہوگا کہ جس تاریخ کو بینک کے ذریعہ سے چیک ریٹرن ہونے کی اطلاع آپ کو موصول ہوئی۔

اس تاریخ سے 30 یوم کے اندر آپ کو ایک نوٹس کے ذریعہ چیک دینے والے سے اپنے پیسوں کا تقاضا کرنا ہوگا۔ پیسوں کی واپسی کے لئے آپ کو نوٹس بھیجنی ہوگی اور اس نوٹس میں آپ کو پیسے واپس حاصل کرنے کے لئے 15 دن کی مہلت دینی پڑے گی۔ اس کے بعد بھی اگر آپ کے پیسے واپس نہیں کئے جاتے ہیں تو پھر 15 دن کی دی گئی مدت ختم ہونے کے بعد 30 یوم کے اندر آپ کو چیک باؤنس سے متعلق کیس دائر کرنے کے لئے عدالت سے رجوع ہونا پڑے گا۔

اس طرح سے جو رول ہے وہ یہ ہے کہ چیک کی ویلیڈٹی چیک پر تحریر کردہ تاریخ سے 90 یوم ہوتی ہے اور اگر چیک ڈز آنر ہوتا ہے تو ڈز آنرکی تاریخ سے اندرون 30 یوم آپ کو نوٹس دینی پڑے گی اور اپنے پیسے واپس حاصل کرنے کے لئے 15 دن کا وقت بھی دینا پڑے گا۔ 15 دن کے بعد بھی اگر آپ کے پیسے نہیں ملتے ہیں تو پھر آپ کو اندرون 30 یوم عدالت میں مقدمہ دائر کرنا پڑے گا۔ یہ طریقہ کار ہے۔ اگر آپ اس طریقہ کار پر عمل کرتے ہیں۔ اس طریقہ کار کو اپناتے ہیں تو آپ کے لئے آپ کے پیسے واپس حاصل کرنا سہل اور آسان ہوگا۔