قانونی مشاورتی کالمقومی

چالان کی وصولی کیلئے گاڑی روکنا اور چابی چھیننا، پولیس کو کتنا اختیار ہے؟

میں بیگم بازار سے ٹووہیلر پر جا رہا تھا۔ ٹریفک پولیس نے مجھ کو روک کر 1200 روپئے کا چالان کیا۔ میری ٹووہیلر کو روک لیا گیا۔ ٹریفک پولیس کے اہلکاروں نے جبری طورپر میری گاڑی کی چابیاں بھی نکال لیں ۔

سوال: میں بیگم بازار سے ٹووہیلر پر جا رہا تھا۔ ٹریفک پولیس نے مجھ کو روک کر 1200 روپئے کا چالان کیا۔ میری ٹووہیلر کو روک لیا گیا۔ ٹریفک پولیس کے اہلکاروں نے جبری طورپر میری گاڑی کی چابیاں بھی نکال لیں ۔مجھ کو تین گھنٹوں تک سڑک پر روک کر رکھا گیا۔ کیا ٹریفک پولیس کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی گاڑی چلانے والے کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرے اور چالان کی وصولی کے لئے اس طرح کا رویہ اپنائے۔

جواب: ٹریفک پولیس کے اسی طرح کے رویہ کے خلاف جنوری 2026 میں ایک معاملہ تلنگانہ ہائی کورٹ تک پہنچا۔ جبری طورپر ٹریفک چالانات وصول کئے جانے کے خلاف ایک عرضی داخل کی گئی تھی۔ اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ٹریفک پولیس کو اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی بھی گاڑی کو زبردستی روکے یا چیکنگ کے نام پر گاڑی سوار کو زدو کوب کرے۔

اس معاملہ میں ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کردہ احکامات میں یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ ٹریفک پولیس کو اختیار نہیں ہے کہ وہ چیکنگ کے نام پر سڑک پر گاڑیوں کو روکے اور چالانات کرے۔ علاوہ ازیں جبری طورپر چالانات کی رقم کی وصولی کے نام پر گاڑیوں کی چابی کھینچ کر رکھ لینے کا بھی پولیس کو اختیار نہیں ہے۔ چاہے وہ ٹو وہیلر ہو یا فور وہیلر ہو۔ اس طرح کی من مانی پولیس ہرگز نہیں کر سکتی ہے۔

اسی طرح سپریم کورٹ نے بھی ایسے ہی ایک معاملہ میں فیصلہ صادر کیا کہ زبردستی کسی کو بھی ٹریفک چالانات کے نام پر ہراساں نہیں کیا جا سکتا۔ حالیہ دنوں میں بھی ایک معاملہ ہائی کورٹ تک پہنچا جس میں کہا گیاکہ ٹریفک پولیس کو اس بات کا اختیار نہیں ہے کہ وہ ٹریفک چالانات کے نام پر زبردستی رقم وصول کرے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ان دنوں پولیس کی جانب سے اختیارات کے بے جا استعمال کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ پولیس کی ہراسانی کا جو رجحان ہے وہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔

متعدد مواقع پر ہائی کورٹ نے یہاں تک کہہ دیا کہ چبوترہ مشن کے نام پر لوگوں کے ذہنوں میں رات میں محلوں میں جو دہشت پولیس کی جانب سے پھیلائی جا رہی ہے وہ بھی غیر قانونی ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ چالانات کرنا ٹریفک پولیس کے اختیار میں نہیں ہے۔ ٹریفک پولیس کا کام ٹریفک کو کنٹرول کرنا ہے۔ ٹریفک نظام کو بہتر بنانا ہے۔ ٹریفک کی سہل آمد رفت کو یقینی بنانا ہے۔ یہ کام چھوڑ کر ٹریفک پولیس ملازمین سڑک پر ٹھہر جاتے ہیں اور چالان وصول کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ بالکلیہ طورپر غیر قانونی ہے۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ پولیس کہ اعلیٰ عہدہ دار اپنے ماتحت پولیس ملازمین کو چالانات کی وصولی کا ایک ہدف یا ٹارگٹ دیتے ہیں اور یہ ٹارگٹ ماتحت عہدہ داروں کو مکمل کرنا ہوتاہے۔ چالانات کرنے کا اختیار تو ٹریفک پولیس کو نہیں ہے البتہ اگر کوئی موٹر وہیکل ایکٹ کے قواعد کی خلاف ورزی کرتا ہے تو متعلقہ عہدیداران کوموٹروہیکل ایکٹ کے تحت اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ کارروائی کریں تاہم اس معاملہ میں بھی مناسب طریقہ کار استعمال کیا جانا چاہئے ۔

پہلے نوٹس دینی پڑے گی۔ نوٹس کا جواب دینے کا موقع دینا پڑے گا۔ اس کے بعد ہی جرمانہ یا چالان متعین کیا جا سکتا ہے۔ یکطرفہ جبری طورپر ٹریفک چالان کے نام پر رقم وصول کرنا بالکلیہ طور پر غیر قانونی ہے اور اس سلسلہ میں اس وقت ایک معاملہ تلنگانہ ہائی کورٹ میں زیر دوراں بھی ہے۔