ٹرمپ نے سی این این پر پابندی عائد کردی
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کے دن کہا کہ وہ سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو پر پابندی عائد کررہے ہیں۔ یہ تینوں وائٹ ہاؤس کی رپورٹنگ نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کوریج ان کے موافق نہیں ہے اور یہ فیک نیوز پھیلارہے ہیں۔
نیویارک (اے پی) صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کے دن کہا کہ وہ سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو پر پابندی عائد کررہے ہیں۔ یہ تینوں وائٹ ہاؤس کی رپورٹنگ نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کوریج ان کے موافق نہیں ہے اور یہ فیک نیوز پھیلارہے ہیں۔
امریکی صدر نے دھمکی دی کہ ایسے مزید میڈیا اداروں پر وہ امتناع عائد کردیں گے۔ صدر ٹرمپ کا رویہ میڈیا کوریج کے تئیں جارحانہ ہوتا جارہا ہے۔ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا سائٹ پر لکھا کہ میں سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو پر پابندی عائد کررہا ہوں کہ وہ وائٹ ہاؤس کی رپورٹنگ نہیں کرسکتے کیونکہ یہ ادارے فیک نیوز پھیلارہے ہیں۔
چند منٹ بعد ٹرمپ نے اوول آفس میں ایک ایونٹ میں کہا کہ یہ ادارے فیک نیوز پھیلارہے ہیں اسی لئے میں نے ان پر پابندی عائد کی ہے۔ آپ لوگ فیک نیوز پڑھ کر اور دیکھ کر تنگ آگئے ہوں گے۔ آپ سی این این کو دیکھئے وہاں صرف فیک نیوز ہے اسی لئے اس کی ریٹنگ اچھی نہیں ہے۔ ایم ایس ناؤ کو دیکھئے وہاں بھی فیک نیوز ہے۔
پولیٹیکو کو دیکھئے وہاں لکھی جانی والی اسٹوریز فیک ہیں۔ ممکن ہے دوسرے ادارے بہتر رپورٹنگ کرے۔ ہمارے ملک کو دیانتدارانہ نیوز چاہئے۔ سی این این نے صدر ٹرمپ کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی وہائٹ ہاؤس ٹیم کے ساتھ کھڑا ہے جو منصفانہ اور مستند رپورٹنگ کرتی ہے۔ اس نے کہا کہ ہمیں امریکی دستور کے تحت حق حاصل ہے کہ ہم حکومت کی کسی مداخلت کے بغیر رپورٹنگ کریں۔ امریکی صدر کا اقدام بنیادی اور دستور کے زیر تحفظ حق پر غیر قانونی حملہ ہوگا۔
پولیٹیکو نے کہا کہ وہ وہائٹ ہاؤس سے منصفانہ رپورٹنگ جاری رکھے گی۔ ایم ایس ناؤ کا ردعمل فوری سامنے نہیں آسکا۔ ٹرمپ کی دوسری میعاد کے دوران وہائٹ ہاؤس کا میڈیا سے ٹکراؤ زیادہ ہوا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے بعض میڈیا آؤٹ لیٹس کو سزا دی ہے۔
امریکی صدر نے انفرادی رپورٹرس یا سوشل میڈیا پر بھی بعض اوقات تنقید کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے گذشتہ برس حکم دیا تھا کہ امریکی نیوز ایجنسی اسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے صحافیوں کو اوول آفس، ایرفورس۔Iاور دیگر تقاریب سے دور رکھا جائے۔