۔۔۔ پھر یہ ہوا کہ وہ میرے سامنے آگئے
مراقبہ یعنی Meditation انسان کے ذہن کو سکون دینے اور خود کو پہچاننے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ مراقبہ ذہن کو خالی کرنا نہیں بلکہ اسے پُرسکون کرنا ہے۔ باہر کا طوفان آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اگر آپ کے اندر مراقبہ کا سکون موجود ہو۔
ڈاکٹر شجاعت علی صوفی پی ایچ ڈی
ـCell : 9705170786
l مراقبہ روح کی وہ گفتگو ہے جو بغیر لفظوں کے خدا سے ہوتی ہے
l تصوف کی زبان میں مراقبہ اپنے دل پر پہرہ دینے کا نام ہے
l جب انسان اپنے آپ کو جان لیتا ہے تو وہ کائنات کے سب سے بڑے راز کو پالیتا ہے
l جب تم باہر کی دنیا سے خاموش ہوجاتے ہو تو اندر کی دنیا بولنا شروع کردیتی ہے
مراقبہ یعنی Meditation انسان کے ذہن کو سکون دینے اور خود کو پہچاننے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ مراقبہ ذہن کو خالی کرنا نہیں بلکہ اسے پُرسکون کرنا ہے۔ باہر کا طوفان آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اگر آپ کے اندر مراقبہ کا سکون موجود ہو۔ جب زبان خاموش ہوتی ہے تو مراقبہ شروع ہوتا ہے اور جب ذہن خاموش ہوتا ہے تو خدا بولتا ہے۔
مراقبہ دراصل اپنے اندر کا سفر ہے جہاں آپ خود سے ملاقات کرتے ہیں۔ دنیا کو جاننا علم ہے لیکن مراقبہ کے ذریعہ خود کو جاننا اصل حکمت ہے۔ مراقبہ وہ آئینہ ہے جس میں آپ اپنی روح کا اصل چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔ نماز میں ہم خدا سے بات کرتے ہیں اور مراقبہ میں ہم خدا کو سنتے ہیں۔ مراقبہ ماضی کے پچھتاؤں اور مستقبل کے خوف سے نکل کر موجودہ لمحے میں جینے کا نام ہے۔
جسم کے لئے جو مقام ورزش کا ہے ، روح اور ذہن کے لئے وہی مقام مراقبہ کا ہے۔ انسان بظاہر ہجوم میں رہتا ہے، مگر اس کے اندر ایک ایسی تنہائی بھی ہوتی ہے جسے دنیا کی کوئی مصروفیت ختم نہیں کرسکتی۔ آج کا انسان سہولتوں کے باوجود بے سکونی، ذہنی تھکن اور اضطراب کا شکار ہے۔ ایسے میں مراقبہ اسے اپنے باطن کی طرف لوٹنے اور اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ مراقبہ صرف آنکھیں بند کرکے خاموش بیٹھنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے دل کو دنیا کے شور سے نکال کر اللہ کی طرف متوجہ کرنے کی ایک کیفیت ہے۔
انسان چند لمحوں کے لیے خاموش ہو، اپنے خیالات کا مشاہدہ کرے، اللہ کو یاد کرے اور اپنے دل کا محاسبہ کرے تو اس کے اندر سکون کی ایک نئی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔ قرآن مجید کا مفہوم ہے کہ ’’اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔‘‘ مراقبہ انسان کو اپنے غصے، خوف، خواہش اور بے چینی کو پہچاننے میں مدد دیتا ہے۔ وہ ہر کیفیت کے فوراً پیچھے چلنے کے بجائے رک کر سوچنا سیکھتا ہے۔
یہی اندرونی بیداری روحانی تربیت کی ابتدا ہے۔ تنہائی ہمیشہ محرومی نہیں ہوتی۔ کبھی یہی تنہائی انسان کو اس ذات کی طرف لے جاتی ہے جس کے سامنے وہ اپنے دل کا ہر راز بیان کرسکتا ہے۔ رات کی خاموشی میں، جب دنیا کا شور کم ہوجاتا ہے، انسان اپنے آپ سے پوچھ سکتا ہے: میں کون ہوں؟ میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ مجھے اپنے رب سے کیا تعلق ہے؟ یہ سوال اگر سچے دل سے اٹھے تو تنہائی عبادت بن جاتی ہے، خاموشی دعا بن جاتی ہے اور آنسو توبہ کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
صوفیاء کرام نے ہمیشہ باطن کی اصلاح اور دل کی بیداری پر زور دیا ہے۔ حضرت حسن بصریؒ سے منسوب ہے کہ مومن اپنے نفس کا محاسبہ کرتا رہتا ہے۔ اس تصور میں مراقبہ کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ انسان اپنے اندر جھانکے اور اپنے اعمال و نیتوں کو درست کرے۔ حضرت جنید بغدادیؒ کی تعلیمات میں بھی اللہ کے ساتھ مسلسل تعلق اور باطن کی پاکیزگی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ صوفیانہ روایت ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ خدا کی تلاش باہر کی دنیا میں بھٹکنے سے زیادہ اپنے دل کی اصلاح میں ہے۔ ایک مشہور صوفیانہ حکایت کا مفہوم ہے کہ ایک شخص خدا کو دور دور تلاش کرتا پھرا، مگر جب اس نے اپنے دل کے اندر جھانکا تو اسے معلوم ہوا کہ اصل سفر باہر کا نہیں، اندر کا تھا۔
یہی مراقبے کا حسن ہے: انسان دنیا سے فرار نہیں کرتا بلکہ اپنے اندر کی دنیا کو درست کرکے دوبارہ زندگی کی طرف لوٹتا ہے۔ مراقبہ انسان کے لیے ذہنی سکون، خود شناسی اور روحانی توجہ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ چند منٹ کی خاموشی، ذکر، دعا اور محاسبہ نفس انسان کو اپنی پریشانیوں کو نئے انداز سے دیکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ لیکن مراقبہ کو ہر جسمانی یا ذہنی بیماری کا مکمل طبی علاج سمجھنا درست نہیں۔ شدید یا مسلسل بیماری کی صورت میں طبی ماہر سے مشورہ ضروری ہے۔
روحانی سکون اور طبی علاج ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ بعض حالات میں ایک دوسرے کے معاون ہوسکتے ہیں۔ مراقبہ دراصل خاموشی کا وہ سفر ہے جس میں انسان اپنے آپ سے ملتا اور اپنے رب کو یاد کرتا ہے۔ جب دنیا کی آوازیں مدھم ہوجاتی ہیں تو دل کی آواز سنائی دینے لگتی ہے۔ حقیقی تنہائی وہ نہیں جس میں انسان اکیلا ہو، بلکہ وہ ہے جس میں انسان اپنے خالق کو بھول جائے۔
اور حقیقی سکون یہ ہے کہ انسان لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اپنے دل کو اللہ کی یاد سے آباد رکھے۔ مراقبہ ہمیں خاموش ہونا سکھاتا ہے، اور یہی خاموشی کبھی انسان کو اپنے رب کی طرف لوٹنے کا راستہ دکھا دیتی ہے۔اسی پس منظر میں کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
میں ان سے کررہا تھاتصور میں گفتگو
پھر یہ ہوا کہ وہ میرے سامنے آگئے
۰۰۰٭٭٭۰۰۰