مکان کرایہ پر دیا، کرایہ بھی بند اور قبضہ کسی اور کا! مالک کیلئے کیا قانونی راستہ ہے؟
میں نے میرا ایک مکان کچھ سال پہلے کرایہ پر دیا۔ مکان کا کرایہ آغاز میں پابندی سے موصول ہوتا رہا تاہم چند مہینوں سے کرایہ نہیں دیا جا رہا ہے۔ جب میں نے اپنے کرایہ دار سے ربط قائم کیا تو وہ ٹال مٹول کرنے لگے۔
سوال: میں نے میرا ایک مکان کچھ سال پہلے کرایہ پر دیا۔ مکان کا کرایہ آغاز میں پابندی سے موصول ہوتا رہا تاہم چند مہینوں سے کرایہ نہیں دیا جا رہا ہے۔ جب میں نے اپنے کرایہ دار سے ربط قائم کیا تو وہ ٹال مٹول کرنے لگے۔ میں اپنے مکان پہنچا تو مجھے پتہ چلا کہ وہاں کوئی اور مقیم ہے اور جس کو میں نے مکان کرایہ پر دیا تھا۔ وہ مکان میں مقیم نہیں ہیں۔
ایسے حالات میں مجھ کو کیا کرنا چاہئے۔ میرے گھر کا قبضہ حاصل کرنے کے لئے مجھے کرایہ دار سے تقاضا کرنا چاہئے یا پھر اب جو مکان میں مقیم ہیں۔ ان سے مکان واپس لینا چاہئے۔
جواب : سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ آپ نے اپنا مکان جس شخص کو کرایہ پر دیا ہے۔ اس کرایہ دار کو مکان کو سب لیز پر دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ آپ نے جس شخص کو مکان کرایہ پر دیا ہے۔ اسی کو چاہئے کہ وہ آپ کو مکان کا قبضہ واپس کرے۔
آپ کا کرایہ دار قبضہ واپس کرنے کے بجائے کسی اور شخص کو مکان کرایہ پر دے رکھا ہے تو آپ نے جس کو مکان کرایہ پر دیا تھا۔ اس کے خلاف ہی تخلیہ کا باضابطہ دعویٰ کر سکتے ہیں اور تخلیہ کا جب ججمنٹ آپ کے حق میں آئے گا تو وہ سب ٹیننٹ کو بھی خالی کرانے کے اختیارات عدالت کو حاصل رہیں گے۔
دراصل بات یہ ہے کہ سب لیز ایک غیر قانونی عمل ہے۔ ایک غیر قانونی قدم ہے لہذا جس کو آپ نے اپنا مکان کرایہ پر دیا تھا۔ آپ کرایہ نامہ کے مطابق فوری تخلیہ کی کارروائی کریں اور اس پراپرٹی پر جو بھی غیر قانونی طور پر قابض ہیں۔ ان کے تخلیہ کے لئے فی الفور قانونی چارہ جوئی کا آغاز کریں۔