قومی

کانگریس،ترنمول کانگریس سے اتحاد نہیں کرے گی

پارٹی کا اصل نام اور نشان منجمد کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلہ کے خلاف ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کے ساتھ کھڑے رہنے کے باوجود نہ تو دہلی میں کانگریس ہائی کمان اور نہ مغربی بنگال میں پارٹی کی ریاستی قیادت ترنمول کانگریس کے ساتھ فی الحال کسی بھی قسم کی انتخابی مفاہمت کے لئے تیار ہے۔

کولکتہ (آئی اے این ایس) پارٹی کا اصل نام اور نشان منجمد کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلہ کے خلاف ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کے ساتھ کھڑے رہنے کے باوجود نہ تو دہلی میں کانگریس ہائی کمان اور نہ مغربی بنگال میں پارٹی کی ریاستی قیادت ترنمول کانگریس کے ساتھ فی الحال کسی بھی قسم کی انتخابی مفاہمت کے لئے تیار ہے۔

پارٹی کے ایک سینئر قائد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم نے ہائی کمانڈ پر واضح کردیا ہے کہ ترنمول کانگریس کے تینوں دھڑوں میں کسی ایک سے بھی مفاہمت کو نچلی سطح کے کانگریس ورکرس ہلکے میں نہیں لیں گے۔ ان لوگوں نے ترنمول کانگریس کے پچھلے سلوک کو ابھی تک بھلایا نہیں ہے۔ 2011 تا 2016 مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس نے کانگریس کو بار بار توڑنے کی کوشش کی۔

ہمارے پارٹی ورکرس کو اچھی طرح یاد ہے کہ پچھلی حکومت کے دور میں انہیں کس طرح بے عزت کیا گیا، اذیتیں دی گئیں۔ ایسی صورتحال میں ترنمول کانگریس کے ساتھ کسی بھی قسم کی مفاہمت مغربی بنگال میں بی جے پی کو مزید مستحکم کرے گی۔ نئی دہلی میں پارٹی ہائی کمانڈ کو ریاستی قیادت کے موقف سے اتفاق ہے۔

اب ہمارا مقصد کانگریس کو مغربی بنگال میں بی جے پی کی ٹکر کی جماعت بنانا ہے۔ نئی دہلی سے پی ٹی آئی کے بموجب رکن راجیہ سبھا کپل سبل نے ہفتہ کے دن الیکشن کمیشن پر الزام عائد کیا کہ اس کی بی جے پی کے ساتھ جگل بندی ہے۔

مغربی بنگال میں ضمنی الیکشن کے سلسلہ میں جو ہورہا ہے وہ جمہوریت کا قتل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے نندی گرام امیدوار ملن پردھان کی گرفتاری دن دھاڑے جمہوریت کا قتل ہے۔ یہ الیکشن کمیشن اور حکومت کے ساتھ جگل بندی ہے۔ سارا ملک یہ تماشہ دیکھ رہا ہے۔ مغربی بنگال میں جو ہوا اسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ہماری جمہوریت کھوکھلی ہوچکی ہے۔ ہمارے ادارے بھی کھوکھلے ہوگئے ہیں۔