ایران کی خودمختاری ، سلامتی اور بین الاقوامی انصاف
ایران کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں کے اثرات، بین الاقوامی قانون، شہریوں کے تحفظ اور سفارتی عمل پر ان کے مضمرات پر غور کیا گیا۔
سیمنار ’’قانون اور جواز‘‘ میں نمائندہ خامنہ ائی کا خطاب
نئی دہلی : “جنگ، قانون اور جواز: ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کا جائزہ” کے عنوان سے ایک سیمینار اتوار کے روز کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیادہلی میں منعقد ہوا، جس میں قانونی، عدالتی، سفارتی اور عسکری شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
جوڈیشل کوئسٹ نیوز نیٹ ورک کے زیرِ اہتمام ہونے والی اس تین گھنٹے کی نشست میں ایران کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں کے اثرات، بین الاقوامی قانون، شہریوں کے تحفظ اور سفارتی عمل پر ان کے مضمرات پر غور کیا گیا۔
ابتدائی خطاب میں سید علی طاہر عابدی نے مہمانوں کا استقبال کیا، جبکہ سید ذکی زیدی نے پس منظر بیان کرتے ہوئے طاقت کے استعمال کی قانونی حیثیت اور عالمی اصولوں کے کمزور ہونے پر تشویش ظاہر کی۔ پروگرام کی نظامت آل انڈیا ریڈیو کی سائرہ مجتبیٰ نے کی۔مقررین میں سینئر وکلا اور دیگر قانونی ماہرین نے بین الاقوامی قانون کے تحت طاقت کے استعمال کے فریم ورک کا جائزہ لیا۔ قانونی ماہرین نے اس بات پر بھی غور کیا کہ آیا قانون کی حکمرانی جغرافیائی سیاسی طاقت کے دباؤ کو برداشت کر سکتی ہے یا نہیں۔
ساؤتھ ایشین یونیورسٹی کے لا اسکول کے ڈین پروفیسر سرینواس بررا نے اس نوعیت کے تنازعات سے عالمی قانونی نظام پر پڑنے والے ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالی۔ عسکری نقطہ نظر سے جنرل جی ڈی بخشی کی شرکت متوقع تھی، جبکہ وزارتِ خارجہ کے سابق سیکریٹری سفیر سریش گوئل نے جاری مذاکرات کے دوران سفارتی اصولوں پر پڑنے والے دباؤ کو اجاگر کیا۔
ڈاکٹر محمد حسین ضیائی نے، جو بھارت میں ایران کے سپریم لیڈر کے دفتر کی نمائندگی کر رہے تھے، نے ایران کا مؤقف پیش کرتے ہوئے خودمختاری، سلامتی کے خدشات اور بین الاقوامی انصاف کے سوالات پر زور دیا۔دہلی یونیورسٹی کی پروفیسر انومیہ مشرا کی زیرِ نظامت ایک پینل مباحثہ بھی ہوا، جس میں بین الاقوامی قانون کے انتخابی اطلاق پر گفتگو کی گئی، جس کے بعد شرکائ کے ساتھ سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا۔سیمینار کا اختتام سینئر وکیل انس تنویر کی جانب سے خلاصہ پیش کرنے اور ایک قرارداد کی منظوری کے ساتھ ہوا، جس میں فوجی کارروائیوں کی قانونی حیثیت، جنگی طرزِ عمل اور سفارتی روایات کی کمزوری پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔مقررین نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ زیرِ بحث مسائل صرف ایک تنازع تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی قانونی نظام کی ساکھ سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔