بھارت

جگ وکرم 20,400 میٹرک ٹن ایل پی جی لے کر آبنائے ہرمز کے راستے کانڈلا پہنچ گیا

حکام نے بدھ کے روز تصدیق کی ہے کہ ہندوستانی پرچم والا ایل پی جی بردار بحری جہاز 'جگ وکرم' حکمت عملی کے لحاظ سے حساس آبنائے ہرمز سے گزرنے کے بعد گجرات کی کانڈلا بندرگاہ پر کامیابی سے پہنچ گیا ہے

حکام نے بدھ کے روز تصدیق کی ہے کہ ہندوستانی پرچم والا ایل پی جی بردار بحری جہاز ‘جگ وکرم’ حکمت عملی کے لحاظ سے حساس آبنائے ہرمز سے گزرنے کے بعد گجرات کی کانڈلا بندرگاہ پر کامیابی سے پہنچ گیا ہے، جو 20,400 میٹرک ٹن مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) لے کر آیا ہے۔

گریٹ ایسٹرن شپنگ کمپنی کی ملکیت والا یہ جہاز 11 اپریل کو آبنائے ہرمز سے گزرا اور منگل کی دیر رات کانڈلا میں آئل جیٹی نمبر 1 پر لنگر انداز ہوا۔ جہاز سے گیس اتارنے کا عمل جلد شروع ہونے کی توقع ہے، جس سے ملک کے ایل پی جی سپلائی نیٹ ورک کو بروقت تقویت ملے گی۔ یہ سفر اس لیے بھی خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد فروری کے آخر سے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائی کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں ایران کی پاسداران انقلاب کور کی جانب سے تجارتی جہاز رانی پر جوابی وارننگز اور حملے سامنے آئے۔ یہ تنگ آبی گزرگاہ، جو عام طور پر عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ سنبھالتی ہے، تب سے محدود ٹریفک اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کا شکار ہے۔

حکام نے بتایا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کی مفاہمت کے بعد ‘جگ وکرم’ اس گزرگاہ کو عبور کرنے والا پہلا ہندوستانی بحری جہاز ہے، جو اس اہم توانائی راہداری کے ساتھ جہاز رانی کی سرگرمیوں کے محتاط احیاء کی علامت ہے۔ اس کی آمد کو ہندوستان کی توانائی کے تحفظ کے لیے اسٹریٹجک اور علامتی دونوں لحاظ سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

اس جہاز پر عملے کے 24 ارکان سوار تھے اور یہ ان محدود ہندوستانی جہازوں میں سے ایک ہے جو مارچ کے اوائل سے خلیجی خطے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ تاہم، ہندوستانی پرچم والے تقریباً 15 جہاز اب بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے کلیئرنس کے منتظر ہیں۔ حکام نے بتایا کہ بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت ان جہازوں کی محفوظ واپسی کے لیے وزارت خارجہ کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

ایڈیشنل سکریٹری مکیش منگل نے بتایا کہ حالات سازگار ہوتے ہی ان کی نقل وحمل کو ممکن بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہندوستانی بحری جہازوں سے متعلق کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ مزید یقین دہانی کراتے ہوئے حکام نے بتایا کہ اب تک 2,100 سے زائد ہندوستانی ملاحوں کو وطن واپس لایا جا چکا ہے، جن میں صرف گزشتہ روز واپس آنے والے 93 ملاح بھی شامل ہیں۔ ہندوستان بھر میں بندرگاہوں کے آپریشن معمول کے مطابق جاری ہیں اور کہیں بھی بھیڑ یا رکاوٹ کی اطلاع نہیں ہے۔

منگل کو بین وزارتی بریفنگ کے دوران حکومت نے بتایا تھا کہ ملک میں تجارتی ایل پی جی کی فراہمی بحران سے پہلے کی سطح کے تقریباً 70 فیصد تک بحال ہو گئی ہے۔ حکومت نے مغربی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے تیل کمپنیوں اور ریاستی حکام کے تعاون سے ایک مربوط طریقہ کار وضع کیا ہے۔